ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 317
عیسائی چوہڑوں سے برتائو دریافت ہوا کہ چوہڑے جو عیسائی ہوجاتے ہیں ان کے ساتھ بہ لحاظ اہل کتاب ہونے کے کھانا جائز ہے مگر اکثر چوہڑے عیسائی ہوکر اپنی پچھلی عادتوں پر قائم رہتے ہیں حرام کھاتے اور گاؤں کے مسلمان ان سے نفرت رکھتے ہیں۔اگر ہم ان کے ساتھ کھان پان کریں تو دوسرے مسلمانوں کے درمیان انگشت نما ہوجاتے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایاکہ یہ ضروری نہیں کہ ان کے ساتھ کھایا جاوے اور جو چوہڑاپن کی عادتوں اور رسموں کا تارک نہیں ہوتا اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے جیسا کہ چوہڑوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔قدرت ثانیہ ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ قدرت ثانیہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا۔جب کسی قوم کا مورث اوّل اپنا کام پورا کرتا ہے تو اس کے کام کے سرانجام دینے کے واسطے قدرت کاہاتھ نمودار ہوتا ہے۔جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ (المائدۃ:۴)اس کا ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوگیا مگر آپ کے بعد آپ کے خلفاء نواب مجددین کے وقت بھی ہوتا رہا، وہ سب قدرت ثانیہ تھے۔قدرت ثانیہ کی حدبندی نہیں ہوسکتی۔جب کوئی قوم کسی قدر کمزور ہوجاتی ہے تب بھی اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت سے اس کی طاقت کو پورا کرنے کے واسطے قدرت ثانیہ بھیجتا رہتا ہے۔خفیہ نکاح ایک شخص نے دریافت کیا کہ میری بی بی بیمار رہتی ہے اور کمزور ہے میں اسے ناراض کرنا بھی پسند نہیں کرتا لیکن دوسری شادی کا بہت محتاج ہوں کیا جائز ہے کہ میں کسی سے خفیہ نکاح کرلوں؟ نکاح خواں اور گواہوں کے سوائے کسی کو خبر نہ ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ میں ایسی پلیدیوں کا فتویٰ نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (المائدۃ:۶) چھپی دوستیاں لگانا جائز نہیں۔خدا سے ڈرو۔ایسی ہی کرتوتوں کی بدولت مسلمانوں پر مصائب پڑے ہیں۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر۱۲ مؤرخہ ۲۲ ؍ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۳،۴)