ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 313
نے فرماکر فیصلہ کردیا۔سب لوگوں نے جہاں کی تاریخیں لکھیں مگر قرآن نے اس کو چھوڑ دیا۔عیسائی بڑے بے ہنگم مؤرخ ہیں سات آٹھ ہزار سے نیچے ہی رہتے ہیں۔پانڈوں کی لڑائی مسیح سے چار ہزار برس پہلے ہوئی۔قرآن کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ اللہ جلشانہٗ کے بنانے کی کوئی تاریخ ہی نہیں بتائی دراصل کوئی ہے ہی نہیں۔آج بھی اللہ اوّل ہے اور آج ہی آخر بھی ہے۔جس وقت وہ مجھ کو بنا رہا تھا نطفہ سے بھی پہلے بقول ؎ ہم چوسبزہ بارہا روئیدہ ام الخ۔۔۔۔۔کے جبکہ اناج تھا پھر روٹی بنی خون بنا نطفہ بنا۔غرض کہ جس وقت وہ بنارہا تھا جتنا حصہ میرا بن چکا تھا ان سب وقتوں میں ربوبیت سے میری حفاظت فرماتا رہا۔وہ ہر چیز کے بنانے کے وقت اس کی ابتداء اوسط اور انتہا میں موجود ہوتا ہے۔اَوَّلُ: لَیْسَ قَبْلَہٗ شَیْ ئٌ (جس سے پہلے کوئی شئے نہ تھی) اٰخِرُ: لَیْسَ بَعْدَہٗ شَیْ ئٌ (جس کے بعد کوئی شئے نہیں) اَلظَّاھِرُ: لَیْسَ فَوْقَہٗ شَیْ ئٌ (اس پر کسی وقت کوئی حکمران نہیں) اَلْبَاطِنُ: لَیْسَ دُوْنَہٗ شَیْئٌ۔اللہ کی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت اس سے کوئی الگ چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ایسی کوئی چیز نہیں جس پر اللہ کی ان صفات کا تسلط نہ ہو۔لوگوں نے اس بات پر ہنسی اڑائی ہے کہ تم ہمیشہ کا بہشت کس طرح لو گے جبکہ صرف خدا ہی پیچھے رہ جائے گا۔ربّ ، رحمن، رحیم ، مالک یہ چاروں صفتیں کبھی خالی نہیں رہتیں۔زمانہ ہر وقت فنا ہوتا رہتا ہے۔ماضی مرگیا مستقبل دنیا پر آیا نہیں حال کا کوئی زمانہ ہی نہیں۔یہ زمانہ جو ہر وقت فناہوتا ہے اس کے اوّل و آخر خدا ہی ہے۔ہر آن میں خدا ہی ہمارے ساتھ ہے۔یہ معنی سوائے قرآن کریم کے اور کسی کو نہیں آتے۔(نور) مظہر جَانِ جَانَاں فرمایا۔ایک دفعہ حضرت مظہرجانِ جَانَاں کے پاس جوتا نہ تھا۔عادت نہ تھی کہ کسی کے آگے اپنی حاجت یا حالت کو ظاہر کریں۔ایک مخلص مرید نے دعوت کی آپ نے عذر کردیا