ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 312
کیسی خراب شکل تھی (جس درخت کے نیچے کھڑے ہوکر درس فرما رہے تھے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا تھا)جب نئے پتے نکلتے ہیں کیسے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔اروڑیوں پر کیسا گند ہوتا ہے مگر وہاں بھی جو پتہ نکلتا ہے کیسا صاف ہوتا ہے۔جب بارش کا پانی برستا ہے کیسا صاف ہوتا ہے۔ماں کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے کیسا مصفا اور بے عیب ہوتا ہے نہ مشرک ہوتا ہے نہ بے ایمان ہوتا ہے۔بھینسوں اور کتیوں کے چھوٹے بچوں میں جو خوبصورتی پائی جاتی ہے وہ بڑوں میںنہیں پائی جاتی۔اگر یہ آنکھیں نہ ہوں کیسی دقت ہو۔کان سے کیسی باتیں سنتے ہیں، زبان سے کیسی پاک باتیں نکلتی ہیں۔خدا کے یہاں سے سب چیزیں پاک آتی ہیں۔ ہر چیز اللہ کی پاکیزگی بیان کررہی ہے۔میرے پاس کوئی ایسا چاقو نہیں جس سے میں اپنا دل چیر کر تمہیں دکھلا سکوں کہ مجھے قرآن سے کس قدر محبت اور پیار ہے۔قرآن کا ایک ایک حرف کیسا عمدہ اور پیارا لگتا ہے۔مجھے قرآن کے ذریعہ بڑی بڑی فرحتوں کے مقام پر پہنچایا جاتا ہے۔دنیا میں جتنی حکمتیں بنی ہوئی ہیں سب اسی حکیم کی بنائی ہوئی ہیں۔(الحدید :۳) وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ہر گھڑی میں پیدا بھی ہورہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔کوئی ایسا نہ پیدا ہوا جو موت کی دوا کرے یا کسی انسان کو پیدا ہی کرسکے۔موت سے بچنے کے لیے بادشاہوں نے فوجیں رکھیں ہتھیار اور قلعے بنائے دوائیں اور منتر اور ختم … اور انتظام بنائے، یہ سب کچھ ہوا مگر کون کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس سے بچا ہو۔ (الحدید :۴) اللہ تعالیٰ کی یہ چار صفتیں ہر وقت رہتی ہیں۔اللہ اوّل ہے اور جس وقت وہ اوّل ہے اسی وقت آخر بھی ہے اور ظاہر بھی اور باطن بھی۔کے یہ معنی غلط کئے گئے ہیں کہ ایک وقت میں خدا اکیلا تھا پھر جہان بنایا۔دیانندیوں نے بھی غلطی کی ہے کہ کہا کہ چار ارب سال ہوگیا حالانکہ اگر مہا سنکھ کو مہا سنکھ میں مہا سنکھ دفعہ بھی ضرب دیں تب بھی خدا کی ہستی کا پتہ نہیں لگ سکتا۔مگر قربان جائے الحمد شریف کے جس