ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 310
سمجھیں ایسے قونصل نہ بنائیں جیسے انڈیا میں رکھے ہیں۔الاماں الاماں سرویہ مانٹی نگرو، ہرزیگونیہ، یونانی سلطنت، اٹلی اور لنڈن میں قونصل ہوشیار مومن ہوتے تو ان کی تیاری سے آگاہ کرتے۔بابا میں سیاست کی کتابیں نہیں پڑھا۔ہمارا ملک عہد سکھاں سے انگریزوں تک عہدغزنوی سے افغانوں تک مغلوں تک غلام ہے۔سیاست کو نہیں جانتے۔اگر کوئی مناسب بات کہی ہے تو کودک نادان کا تیر بہدف ہے واِلّا ناشناسی عذر ہے۔کوئی کتاب سیاست کی مگر دقیانوسی نہ ہو اگر مل سکے۔۔۔۔۔۔مجھے بھیج دیں۔یہ سوال ہے مصر کی بجلی کی روشنی والی کوٹھی میں آپ ہیں۔کھانے کا کمرہ الگ، سلاملک الگ، لکھنے پڑھنے کا الگ، نوکر چاکر مفت، روزانہ سگریٹ ،گاڑی ہے۔علم سیاست میں بایں شورقیامت و چندہ ہند۔اس خرچ کا نام کیا ہے۔تبذیر و اسراف تو ہوگا۔نہیں۔آپ ماشاء اللہ فہیم ہیں، سخن فہم ہیں، ضرور بتائیں۔خواجہ کمال الدین لنڈن میں گئے……ہاں مصریوں نے طرابلس میں سنا ہے شکست کھائی تھی وہ متفرنج تھے یا اور۔مصر میں آج خیالات کیا ہیں؟مصر میں آج کل کیا ہوتا ہے۔وہاں یونیورسٹی کوئی ہے۔اس کی کتابیں اور سکیم کیا ہے۔کوئی کالج ہے۔اس کی کتابیں اور سکیم کیا ہے۔مصر میں آج کل کیا طبع ہوتا ہے؟؟؟ میں تو آپ سے ہرگز خلاف نہیں آپ کس امر میں مجھ سے خلاف ہوئے؟ ہم سے دور آپ کیوں مخالف ہوئے؟ آہ ! میرا دل چاہتا ہے تم مجھ سے قرآن سیکھتے اس کا عمل سیکھتے اس کے بعد انشاء اللہ آپ کا سفر بہت مفید و بابرکت ہوتا۔آپ کے مہمان نواز کو کیا خبراس تحریر کا محرر قرآن کا کیسا ماہر وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔مگر آپ کو ایک طرف میرے تلامذہ کی تحقیر، دوسرے ہمچو من، تیسرے گجراتی جماعت کا اثر (ھود:۹) اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ …… وقت ہے نورالدین بڈھا قریب بگور اور اور قرآن جاننے والے تم۔قرآن پڑھو۔سگریٹ جل جاتا، گاڑی کی ہوا نابود زمانہ معدوم، روشنی نے آکسیجن کو ہلاک کیا۔آیا اس ترک مہمان نواز نے