ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 309
پیارے معاف فرمائیے میں نے خود چندہ ایک بار نہیں کئی بار دیا۔جماعت نے چندہ دیا دوبارہ اب کررہے ہیں مگر اس کو لکھے کون۔آپ کے سیاسی اخبار، آپ کے پیسہ، وطن، زمیندار اور وکیل جن کو مع آپ کے مخالفت کی دھت ہے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ہماری جماعت اوّل ضعیف اور سیاسی عقلمندوں میں … تھے جنہوں نے نادان قوم یقین کرکے با اثر شیخ و مولوی گجراتی جماعت سے اپنا نام الگ کرلیا … احمدیوں کو حضرات آپ نے لکھا ہے اس کے دو معنی ہیں کس معنی میں لیا ہے۔ (البقرۃ :۱۰۵) چندہ دیا ہے اور دیتے ہیں۔سیاسی نکتہ خیال آپ کو مبارک ہو۔میں نے سیاسی کتاب کوئی نہیں پڑھی۔ترکوں نے فلاحی زبان میں کوئی کتاب لکھی ہو یا قرآن کریم کی خدمت کی ہو مجھے اس کا علم نہیں۔بخاری کی عینی بے ریب عمدہ کتاب استنبول میں طبع ہوئی ہے۔جَزَاہُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔ہمارے اکفار میں فتاوے شائع ہوتے ہیں۔یہ……وائسرائے پر بمب چلایا۔ہندو اخبار لکھتے ہیں قسطنطنیہ کا بدلہ لیا ہے۔آپ کو اطلاع ملی ہے کہ ہندو مسلمان کا ہند میں اتفاق ہورہا ہے کیسا غلط کام ہے۔لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ۔آپ نے لکھا ہے صوفیائے کرام نے ’’ مانگتے جاؤ ‘‘ کا اصول سمجھا تھا۔مولانا کیا اب صوفیاء کو مان گئے۔فقیر خاکسار (اَلْفَقِیْرُ اِلَی اللّٰہِ الْغَنِیِّ الْحَمِیْدِ) صوفیاء سے ایک قدم آگے نورالدین ہے۔سبحان اللہ کیسی ترقی کی ہے۔۔محمود کی پُر تکلف آپ دعوت کرتے ہیں۔وہ روپیہ چندہ میں دیجئے۔اس اصل پر مانگتے جاؤ۔موجودہ حکومت آپ کی دوست ہے تو ان کو کہو قرآن کے عالم و عامل ہوں، تفریح کم کردیں، اسلام کو حقارت سے نہ دیکھیں، اسلامیوں سے اتحاد پیدا کریں، عرب پر نظر ترحم ڈالیں، محبت بڑھائیں، نجدو یمن و حجاز، کویت پر نظر شفقت ڈالیں، حجاج کے مأمن بنیں، مکہ کے خادم ہوں۔آہ ! دولاکھ کے قریب اپنے اور عرب کے لوگ انہوں نے تباہ کئے۔یورپ کی حکمت عملیہ کو