ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 300
کردیتا ہے۔آج علوم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سورج کی طرف سے بھی اور چاند کی طرف سے بھی زمین پر ٹکڑے گرتے رہتے ہیں اور وہ علیحدہ علیحدہ قسم کے ہوتے ہیں۔کروڑوں ٹکڑے ہوتے ہیں جو ادھر سے آتے ہیں۔اب قرآن کو تیرہ سو برس ہوگیا کہ اس نے اس بات کی خبر دی۔اسلام تو ہمیشہ اسلام ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا جوں جوں نئی تحقیقاتیں ہوں گی تو ں توں اس کی صداقتیں ظاہر ہوں گی۔آنحضرت ﷺ کفار کو جگا رہے تھے کہ دنیا فنا کا مقام ہے تم اس فانی دنیا کے خیال سے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہ کرو۔دیکھو قیامت قریب آرہی ہے چنانچہ چاند کا ٹکڑا زمین پر گرا ہے۔یہ واقعہ رات کا ہے اس وقت سب لوگ سوتے ہوتے ہیں اور لوگ دیکھتے نہیں رہتے۔نیز مورخ کو یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ میری آنکھ غلطی کرتی ہے تا ہم تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ سند ھ کے علاقہ میں دیکھاگیا۔ان لوگوں کی سلطنت علاقہ گجرات والی تھی راجہ داہر بھی انہیں میںسے تھا۔داب الشلیم انوار سہیلی والے نے بھی دیکھا ہے اس کی کتاب بھی موجود ہے۔تاریخ فرشتہ والے نے بھی اس کتاب کو دیکھا ہے۔چاند سے اہل عرب کا تعلق عرب کا ماٹو چاند ہے۔ہماری جس قدر عیدین اور تیوہار (تہوار) ہیں چاند سے ہی ان کا تعلق ہے اس واسطے مکہ والوں کو دو قسم کی تاریخیں رکھنی پڑتی تھیں۔دنیا کے واسطے سورج کی ، دین کے واسطے چاند کی، ان دونوں قسم کے سالوں میں فرق ہوتا ہے۔۳۶ سال کے بعد ایک سال کا فرق ہوجاتا ہے۔جب وہ چاند اور سورج کی تاریخیں ملاتے تھے ایک لوند کا مہینہ بڑھانا پڑتا تھا۔اور محرم کی ۱۵ سے صفر کی ۱۵ تاریخ تک محرم ہی شمار کرتے تھے۔ابن عربی کا قول ہے کہ جب قیامت میں سالیانہ تاریخوں کے لحاظ سے روزے کے بارے میں پکار ا جاوے گا کہ کب کب رکھے ہیں تو امت محمدیہ جواب دے گی کہ ہر مہینے میں۔گویا اس طرح امت محمدی ہر رنگ میں پوری اترے گی۔ایسا ہی زمین کی گولائی کے سبب سے تمام امت محمدیہ ہر طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہی ہے اور ایسا ہی دن رات کی کمی بیشی کے سبب سے ہر وقت ہی سطح زمین پر نماز پڑھی جاتی ہے اور ہر وقت ہی کوئی نہ کوئی نماز کا وقت ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے عہد میں صفیہ بی بی یہودی تھیں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ چاند میری گود میں ہے۔ان کے خاوند نے ملامت کی اور تھپڑ مارا کہ کیا