ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 29
تم سمجھ گئے ہو تو تم مسلمان ہوگئے ورنہ ہم سے سمجھ سکتے ہو۔اقرار کرنے کا نام ہی بیعت ہے۔ہاتھ میں ہاتھ لے کر پھر مختصراً مذکورہ بالا باتیں فرمائیں اور حسب معمول بیعت ہوئی۔پھر فرمایا۔میرے آپ فرمانبردار ان باتوں میں ہیں۔اسلام اسی کا نام ہے۔اسلام کوئی بھید نہیں ہے۔عیسائی مذہب میں عیسائی ہونے کے بعد کچھ کرنا نہیں پڑتا۔اسلام میں نماز روزہ وغیرہ فرمانبرداری کے نشان بجالانے پڑتے ہیں۔اسلام میں دقت اور تکلیف کچھ نہیں، آسانی ہی آسانی ہے۔نام انسان کوئی رکھے اسلام میں رہ سکتا ہے۔مگر مذہب کے ساتھ نام بھی تبدیل کرہی لیتے ہیں۔میں تمہارا نام عبدالحی رکھتا ہوں۔عبدالحی ہمارا ایک بچہ ہے۔اس کے بعد حاضرین نے عبدالحی صاحب نومسلم سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔حضور اندرتشریف لے گئے اور عبدالحی صاحب اپنے جائے قیام کو اپنے دوست مسٹر غلام حسین صاحب کے ہمراہ گئے۔والسلام نور الدین بہ حیثیت پیر ایک دن فرمایا کہ بعض لوگ دنیا میں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کا مرید ہو اور مرید بنانے سے ان کی مختلف اغراض ہوتی ہیں۔کوئی جمع جتھا بنانا یا روپیہ پیسہ اکٹھا کرنا چاہتا ہے مگر میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں کبھی خواہش نہ تھی کہ لوگ میرے مرید ہوں بلکہ میں نے خود مرید ہونا پسند کیا اور میری خواہش، آرزو کے بغیر جب اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو میرے ہاتھ پر مرید کردیا اور میں پیر ہوگیا تو مجھے پھر بھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی کہ میں تمہارے اموال پر قبضہ کروں۔میں اپنی ضروریات زندگی کے لیے کسی انسان کا ایک لحظہ کے لیے بھی محتاج نہیں ہوں۔حتیٰ کہ میری اتنی خواہش بھی نہیں کہ کوئی مجھے آکر سلام کرے۔اموال لینا تو درکنار، میری ضروریات زندگی کا وہی متکفل ہے جو ہمیشہ سے رہا ہے۔ایک مرتبہ انجمن والوں نے میرے لیے وظیفہ کی تجویز کی۔میں نے اس تجویز کو سنا تو مجھے سخت کرب ہوا کہ افسوس ساری عمر خدا تعالیٰ پر بھروسہ کیا کہ وہ آپ ہی دے اور اب انسانوں کی طرف توجہ ہو۔میں نے فوراً ان لوگوں کو منع کردیاکہ میں ایسی رقوم نہیں لیتا اور نہ مجھے ضرورت ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے محض