ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 28

عیسائی عدالتوں میں اس کو سزا دی جاتی ہے۔گورنمنٹ بھی مجرم کو سزا دیتی ہے۔پس کفارہ پر تو ایمان نہ ہوا۔اب اگر یہ کہا جائے کہ کفارہ سے انسان جرم کرتا ہی نہیں تو پوچھنا چاہئے کہ عیسائی جرم کیوں کرتے ہیں؟ جیل خانوں میں کوئی عیسائی نہ ہونا چاہئے۔میری سمجھ میں جو مذہب آیا ہے وہ اسلام ہے۔اسلام ایسا سیدھا مذہب ہے کہ اس کا کوئی کلمہ چھپا ہوا نہیں۔کوٹھوں اور بلند میناروں پر چڑھ کر بڑے دور سے پکارتے ہیں اللّٰہ اکبر (اذان دیتے ہیں) اللّٰہ اکبر سے پرے اور کلمہ کیا رہ گیا۔تمام کائنات کا خالق، تمام اچھی اور اعلیٰ صفات سے موصوف، تمام عیبوں سے منزہ اور بدیوں سے پاک اور عبادت کے لائق وہ ہے جس کو اللّٰہ کہتے ہیں۔اس کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں۔اس کی صفات جیسی صفات کسی میں نہیں۔جو بڑائی ہم اس کی کریں وہ بڑائی کسی دوسرے کی جائز نہیں۔دنیا میں جو ایسے لوگ آئے کہ انہوں نے نیکی سمجھائی اور خدائے تعالیٰ کی رضا کی راہ بتائی بعد میں لوگوں نے ان کو خدا بنالیا۔عیسائی خود اس کا نمونہ ہیں۔حضرت مسیحؑ آئے تھے خدائے تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے، لوگوں نے خود ہی ان کو خدا بنالیا۔ہمارے اسلام نے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ سکھا کر اور اسلام کا جزو لازم قرار دے کر ہم کو بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور بندے ہیں ان کو خدا ہرگز نہ بناؤ۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب ہے۔کبھی بیٹھے بیٹھے نیکی کا کبھی بدی کا کوئی خیال آجاتا ہے۔نیکی کا خیال جن ذرائع سے ہوتا ہے ان کو فرشتہ کہتے ہیں۔نیکی کا خیال آئے تو انسان ضرور اس کو کر گزرے۔مر کر ہم فنا نہ ہوں گے۔ہم مرکر کسی اور عالم میں جائیں گے جو ہماری آنکھ سے غائب ہے۔اور یہ عقل کے خلاف نہیں۔اسلام کے معنی ہیں فرمانبرداری اور پابند ہونا۔میں نے وید، ژند، استا، دساتیر، گاتھ، سفرنگ وغیرہ پڑھے ہیں اور خوب پڑھے ہیں مذہب کا نام کسی نے کوئی نہیں بتایا۔ہمارے مذہب کا نام اسلام ہی ایک بڑی بھاری حجت ہے۔توحید میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُنے کمال کردیا۔ملائکہ کے متعلق ان کی تحریک نے۔پھر مذہب کا نام اسلام ایسا رکھا ہے جو کسی نے نہیں رکھا۔فرمانبرداری کے نشانوں میں نماز، حج، زکوٰۃ، روزہ ہیں۔اگر تمہارا دل میری ان باتوں کو مانتا ہے اور