ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 2

دیا اور کہا سنو او درندو! اور چرندو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یہاں کیمپ بنانا چاہتے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ۔آج کوئی اس کا نام سپریچولزم یا مسمریزم کہہ دے مگر سچ یہ ہے کہ یہ ایمان کی قوت ہے۔لکھا ہے کہ اس کی آواز سنتے ہی شیرنیاں اپنے بچوں کو لے کر بھاگ گئیں اور قیروان میں چھاؤنی بن گئی اور اتنی بڑی جگہ میں کہ میرے پاس ۴ جلدوں میں صرف وہاں کے علماء کا ذکر ہے۔اس بات کے بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ جب مسلمانوں کی ایمانی قوت بڑھی ہوئی تھی ان کے حوصلے وسیع اور ارادے بلند تھے دنیا کی کوئی تکلیف اور مصیبت ان کے ارادہ کو پست نہ کرسکتی تھی۔وہ تکلیف اور مصیبت کو جانتے ہی نہ تھے مگر اب جبکہ ان کی ایمانی حالت کمزور ہوگئی ہے ان کے حوصلے اور ہمتیں بھی پست ہوگئی ہیں۔ان میں سستی اور کاہلی آگئی ہے اور اب وہ ہر امر میں پانی لاگ سمجھنے لگے ہیں۔آج پانی لاگ انگریزوں کو کیوں نہیں ہوتا؟ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو وہ ہمت ،عزم اور استقلال دیا ہے کہ وہ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ایک سرد ملک کے رہنے والی قوم کس جرأت اور دلیری کے ساتھ افریقہ میں جاتی ہے اور ذرہ نہیں گھبراتی۔دنیا کے دور دراز حصوں میں پھیل گئے ہیں اور پھیلتے جاتے ہیں۔جیسے آج ان کو پانی لاگ نہیں ہوتی، اسی طرح پر ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوں کو بھی نہیں ہوتی تھی۔ایمان کی قوت مضبوط ہو تو پھر کوئی تکلیف کوئی مصیبت رہتی ہی نہیں۔اس لیے کہ مومن کی تو شان ہی یہی ہے کہ وہ لا یحزن ہوتا ہے۔پس تم بھی مومن بنو میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم سب کو خوش دیکھوں۔میں آپ خدا کے فضل سے خوش رہتا ہوں اور بہت ہی خوش رہتا ہوں۔یہ خوشی تمہیں صرف ایمان سے مل سکتی ہے۔اگر ایمان مضبوط ہو تو پھر کیا غم؟ ترقی کرو اور سستی چھوڑدو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا سکھائی ہے۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ (صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر باب ما یتعوذ من الجبن)۔کسل اور عجز دو لفظ ہیں۔عجز کے معنی ہیں اسباب ہی مہیا نہ کریں۔اور کسل مہیا شدہ اسباب سے کام ہی نہ لیا جاوے۔پس تم کسل اور عجز چھوڑ دو اور اس کے لیے دعاؤں سے کام لو۔یہ بڑا ہتھیار ہے اور ایسا ہتھیار کہ جس قدر اس کو چلاؤ اسی قدر زیادہ کارگر اور مفید ہوتا جاتا ہے۔میں نے اس کو خود تجربہ کیا ہے اور اپنے تجربہ کی بنا پر تم کو کہتا ہوں۔