ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 1 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 1

بِسْـمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْــــمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ارشادات نور (بعد از خلافت) مہمان مریض کا خیال حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور ایک دوست حاضر ہوا۔آتے ہی وہ ضعف دل کی وجہ سے بیمار ہوگیا۔اس کا علاج ہوتا رہا اور حضرت خلیفۃ المسیحکی مجلس میں تکلّف اور وہ مسند اور صدر تو ہوتی ہی نہیں جو دوسرے پیروں اور سلسلوں میں پائی جاتی ہے۔پاس ہی وہ مریض ایک چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔فرمایا۔ان کو کہہ دو کہ خوب کھلے ہوکر لیٹ جاویں سایہ میں یا دھوپ میں جو جگہ پسند ہو۔پانی لاگ اور مسلمان کسی نے کہا کہ پانی لاگ بھی ہوجاتا ہے؟ اس پر فرمایا۔آہ! پانی لاگ اب مسلمانوں ہی کو ہوتا ہے۔ایک وقت تھا کہ ان کو پانی لاگ نہ ہوتی تھی۔ایک مسلمان فاتح نے مغربی ساحل افریقہ پر پہنچ کر سمندر میں گھوڑا ڈال دیا اور پرواہ تک بھی نہیں کی کہ یہ سمندر ہے۔ایک سپہ سالار افریقہ کے صحراء میں ایک چھاؤنی بنانا چاہتا تھا۔وہ جگہ کی تلاش اور مناسب موقع کی تلاش کرتا ہوا اس جگہ پہنچا جہاں قیروان ہے۔وہاں پہنچ کر تمام ملک میں گشت کے بعد اسی جگہ کو پسند کیا اور کہا کہ یہ عمدہ جگہ ہے یہاں سے افریقہ کے ہر طرف گھوم سکتے ہیں مگر وہاں بڑی دلدل تھی۔اس کے علاوہ درندے جانور کثرت سے ہیں۔شیر ہیں، چیتے ہیں، سانپ ہیں۔گویا وہ مصائب کا ایک جنگل ہے۔اس نے اپنے آدمیوں کو کہا کہ یہاں چھاؤنی بناؤ۔آدمیوں نے کہا کہ یہاں کیونکر ٹھہر سکتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ کون کہتا ہے کہ یہاں نہیں ٹھہر سکتے۔یہ کہہ کر ان کے