ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 296
لوگوں کو کہتے ہیں کہ تم لوگ مسلمان نہیں ہو۔حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پر اور قرآن شریف پر ایمان رکھتے ہیںاور نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں۔مگر مرزا صاحب کو ان کے دعوے میں کاذب جانتے ہیں۔مرزا صاحب ہر گز رسول یا نبی یا مسیح موعود یا مہدی یا امام وقت کچھ نہیں تھے۔یہی میرا ایمان ہے۔ایسی حالت میں ہم آپ کے نزدیک مسلمان ہیں یا نہیں۔اس بات کا جواب مہربانی فرماکر دیجئے اور صاف صاف جواب عنایت فرمایئے تا کہ میں سمجھ جاؤں۔اگر صاف صاف جواب نہیں عنایت فرماویں گے تو یاد رکھیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ سے مواخذہ کرے گا۔جب ہم خدا اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ بھائی حبیب الدین احمدی ہم لوگوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں۔محمد حنیف احمدی عفی عنہ سوپول مورخہ یکم مارچ ۱۹۱۳ء ڈاک خانہ سوپول ضلع بھاگلپور۔جواب از جانب حضرت خلیفۃ المسیح آپ نے بڑی جرأت سے کام لیا۔ایک شخص کو جسے ہم نے بہت تجربوں کے بعد صادق مانا اس کو آپ نے کاذب کہا اور اسی پر آپ نے بس بھی نہ کی مفتری بھی مانا۔ (الانعام : ۲۲) اور اس کی تکذیب کو اپنا ایمان قرار دیا۔ایسی جرأت پر میں تو آپ کو مومن نہیں سمجھ سکتا۔کیا لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور قرآن نے آپ کو یہی بتلایا ہے۔قرآن کی تعلیم نہیں۔میں تو کسی مومن کو کافر نہیں کہتا مگر ان لوگوں کو بھی مومن نہیں سمجھتا جو ایک راستباز کو کافر اور مفتری اور پھر اس پر ایمان ہونا یقین کرتے ہیں۔آپ اگر اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے تو اتنی جرأت نہ کرتے جتنی کی ہے۔کچھ خدا کا خوف نہیں کیا اور اتنی جرأت سے کام لیا ہے مومن بہت محتاط ہوتا ہے اب بھی اگر آپ نہ سمجھیں تو ہم کیا کریں۔غنی ہونے کا عمل ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ حضور مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے میںغنی ہوجاؤں۔فرمایا۔آپ میرے بڑے مخلص دوست ہیں اور آپ کے اخلاص کو میں جانتا ہوں اور وہ عمل