ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 281
ہے کہ شاید اسی باعث سے آپ کو اس قدرناز ہے۔میں نے یہ بات سن کر اس کو کہاکہ جناب ہم اس ایک بالشت کے کاغذ کوخدا نہیں سمجھتے اور ایک شخص کو کہا کہ بھائی اس بت کو ذرا نکال کر تو لاؤ۔پھر اس کے سامنے ہی منگا کر اس کو پھاڑ ڈالا اور دکھلا دیا کہ ہم کسی چیز کو خدا کا شریک نہیں مانتے۔اس شخص کو میری اس طرح پر اپنی اسناد کو پھاڑ ڈالنے سے رنج بھی ہوا جس کا اس نے نہایت تاسف سے اظہار کیا اور کہنے لگا کہ آپ کے اس نقصان کا باعث میں ہوا ہوں نہ میں یہ بات کہتا اور نہ آپ کا یہ نقصان ہوتا۔لیکن حقیقت میں جب سے میں نے اس ڈپلومہ کو پھاڑا تب ہی سے میرے پاس اس قدر روپیہ آتا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔میں نے لاکھوں روپیہ کمایا ہے۔آپ اپنے بچوں کے لیے خود بھی دعا کریں اور ان کو بھی کہیں کہ وہ خود بھی دعا کیا کریں اور اپنی صحت کا بھی لحاظ رکھیں۔اصل میں پاس بھی خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔میں نے خود ان باتوں کا تجربہ کیا ہے کہ ادھر پاس ہونے کی خبرآتی ہے اور ادھر موت کا پیغام آجاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لڑکوں کے لیے بھی بڑی ہی مصیبت ہے۔بورڈنگیں لڑکوں کے لیے بڑی خطرناک مقام ہیں۔ایک جگہ بڑے ہندو عالموں کے لیکچر ہو رہے تھے میں بھی میز کے قریب سرجھکائے بیٹھا سن رہا تھا وہ سب اس بات پر زور دے رہے تھے اور اس بات کا ثبوت دیتے تھے کہ صغرسنی کی شادی نہایت مضر ہے۔جب ان کے سب بڑے بڑے لیکچرار لیکچر دے چکے تو ان میں سے بہت سے لوگ میرے سر بھی ہوگئے کہ اس میں آپ کا حق بھی ہے کہ آپ بولیں کیونکہ آپ طبیب ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ویدک علاج سے بھی بخوبی واقف ہیں۔غرض ان کے اصرار سے مجھے بولنا پڑا۔میں نے کہا کہ تم لوگ جو صغرسنی کی شادی کی مخالفت کررہے ہو یہ تو بتاؤ کہ وہ شادی ہونے سے پیشتر ہی بورڈنگوں یا مدرسوں میں کوئی شادی کرلیتے ہیں یا نہیں۔پھر میں نے کہا کہ میں نے تمہارے فارسی مدرسے، انگریزی مدرسے، ہندی مدرسے وغیرہ سب دیکھے ہیں جو جو کارروائیاں وہاں ہوتی ہیں وہ بھی مجھے معلوم ہیں۔یہ سب کچھ کہہ کر پھر میں نے نظیریں پیش کیں کہ کس طرح لڑکے تباہ ہوتے ہیں۔اس پر نئی تعلیم والوں نے تو بالکل گردنیں ایسی نیچی کیں کہ پھر وہ