ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 27

کی بحثوں میں نہ پڑو تفسیروں کو پڑھو تو جہاں اس قسم کی بحثیں آئیں ان کو چھوڑ دو۔اسی طرح پر بہت سے لوگ خدا تعالیٰ کی صفات پر بحثیں کرتے ہیں۔اور میں نے دیکھا ہے کہ امکان کذب باری پر کتابیں لکھی ہیں۔یہ سوال بھی اسی قسم کا ہے۔میں پھر تاکید کرتا ہوں کہ یہ سب لغو باتیں ہیں۔پھر اسی سلسلہ میں بعد درس فرمایا کہ قدرت و طاقت اور اس کا حیز فعل میں آنا قدرت اور طاقت جدا امر ہے اور اس قدرت کا حیز فعل میں آنا امر دیگر۔مثلاً ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے، اس کے قویٰ درست ہیں، کیا اس سے یہ نتیجہ نکال لیں کہ وہ اپنی لڑکی یا بہن سے بھی جماع کرسکتا ہے؟ ایک شریف اور غیور انسان کب یہ پسند کرسکتا ہے۔پھر تعجب کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق ایسی ناقص اور ردّی صفات منسوب کی جائیں۔خدا تعالیٰ قادر ہے یہ ایک جدا بات ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ افعال ذنبیہ کا ارتکاب بھی کرتا ہے نہایت بے ادبی اور گستاخی اور جرأت ہے۔توبہ کرنی چاہئے۔ایک نو مسلم کو اسلامی تلقین ۱۵ ؍ مارچ بعد نماز جمعہ حضرت امیرالمؤمنینؓ مکان پر تشریف لائے۔اخویم غلام حسین صاحب دفتر ملٹری اکونٹنٹ راولپنڈی نے اپنے ایک دوست مسٹر جی جی سمتھ عیسائی کو پیش کیا کہ یہ مسلمان ہونا چاہتے ہیں اور اسی غرض کے لیے میرے ہمراہ آئے۔مسٹر سمتھ بعہدۂ کمپونڈر شفاخانہ ملازم ہیں۔حضرتؓ نے اوّل امیر احمد صاحب قریشی کو حکم دیا کہ ان کے یہ کپڑے جو اب پہنے ہوئے ہیں تبدیل کراؤ یعنی ہمارے گھر سے کپڑے منگواکر پہناؤ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب مسٹر سمتھ تبدیل لباس کے بعد آئے آپ نے فرمایا۔میرا عقیدہ یہ ہے کہ مذہب کا بوجھ جو اللہ تعالیٰ کسی کے اوپر رکھتا ہے تو چونکہ وہ رحیم و حکیم ہے ایسا نہیں کرسکتا کہ جو ایک من بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اس پر دس من بوجھ رکھ دے۔مذہب ایسا صاف اور سیدھا ہونا چاہئے کہ اس کو عامی جاہل آدمی بھی سمجھ سکے کیونکہ مذہب تو سب کے لیے ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ اگر انسان کا جنم لے سکتا ہے تو جو لوگ کہتے ہیں کہ رامچندر جی پرمیشر کے اوتار تھے یا کرشن خدا تھے تو ان میں اور مسیح کو خدا ماننے والوں میں فرق ہی کیا ہوا۔پھر جو کوئی جرم کرتا ہے