ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 277 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 277

خدا کی کتاب فرمایا۔میں چھوٹا سا تھا اور ہمارے ملک میں اندھیر تھا۔جب میں اپنے استاد سے سبق پڑھنے لگا تو کلکتہ کا ایک شخص محض خدا کے فضل سے آگیا اس نے میرے استاد سے میری تعلیم کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کچھ جواب دیا ہوگا خدا اس پر رحم کرے۔اس نے کہا کہ آپ جو اس کو مخلوق کی کتاب پڑھاتے ہیں خدا کی کتاب کیوں نہیں پڑھاتے۔یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اس نے مجھے ایک پنجسورہ دیا۔میرے استاد نے بھی مجھے وہی پڑھانا شروع کردیا۔تب ہی سے مجھ کو کتاب اللہ سے محبت ہے۔تین الفاظ قرآن سے مقابلہ مذاہب فرمایا۔بعض وقت میں نے قرآن کے تین تین لفظوں کو علیحدہ چھانٹ کردیکھا ہے کہ انہیں تین الفاظ سے میں دنیا کے تمام مذاہب کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔شرک کے معنی سمجھانا فرمایا۔ایک مولوی صاحب نے کہا کہ مجھے شرک کے معنی نہیں آتے۔میں نے ہنس کرکہا کہ آؤ ہم تم کو سمجھائیں کیونکہ ہم اس کو بچپن میں ہی خوب سمجھ گئے تھے اور اب تو ہم اس کو اس طرح سمجھتے ہیں جیسے الحمد کو۔میں نے ان کو شرک کے معنے سمجھائے اس نے کہا کہ ساری عمر میں نے کبھی بھی یہ معنے نہیں سنے تھے۔عربی زبان کی وسعت فرمایا۔ایک میرے دوست تھے مجھے بمبئی میں مل گئے وہ ہر بات سیاسی امور میں گھسیڑ دیتے تھے۔میرے منہ سے یونہی نکل گیا کہ عربی زبان بڑی وسیع ہے۔کہنے لگے کہ نہیں انگریزی کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ اکانومی کے کیا معنی ہیں؟ میں نے کہا کہ میں انگریزی پڑھا ہوا نہیں ہوں آپ مجھے اس کے معنی اردو میں سمجھائیں پھر میں آپ کو بتادوں گا کہ اکانومی کے کیا معنی ہیں۔انہوں نے مجھے معنی سمجھائے تو پھر میں نے ان کو ایک ایسا لفظ بتایا کہ جس میں لفظ اکانومی کے معنوں سے بہت زیادہ وسعت تھی۔وہ لفظ اقتصاد تھا جس کے معنی ہیں آمدنی اور خرچ کا مقابلہ کرکے اپنے خرچ کو سنبھالنا۔شفاعت فرمایا۔ایک شخص بڑا نیک تھا وہ مجھ سے دشمنی کرتا تھا مگر میں اس کو ہمیشہ اپنی غلطی سمجھتا اور خیال کرتا کہ شاید میری ہی کسی غلطی کا نتیجہ ہے کہ جو ایسا نیک شخص میری مخالفت کرتا ہے۔ایک روز