ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 275
مسئلہ تکفیر مولوی عبدالماجد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ غیراحمدی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور مجھ کو آپ کافر جانتے ہیں؟ اس کے جواب میں حضرت نے لکھا تھا کہ ہم کسی مسلمان کلمہ گو کو کافر نہیں سمجھتے۔اس کے جواب الجواب میں پھر مولوی محمد عبدالماجد صاحب نے خط بقلم محمد عصمت اللہ صاحب ہیڈمولوی اسکول حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پہنچا جس میں لکھا ہے کہ نہایت افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ آپ کی تحریر صاف طور سے پڑھی نہیں گئی، آپ اپنی صحیح رائے سے مطلع فرماویں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے جواب میں لکھا۔مولٰنا! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ بجواب مکرمت نامہ عرض ہے۔جب ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان یقین کرتا ہے تو فرمائیے میرا کیا حق ہے کہ میں اسے کہوں کہ تو مسلمان نہیں۔کیا میں علیم بذات الصدور ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں اور کیا میرے قبضہ میں بہشت اور دوزخ کی کنجیاں ہیں؟ ہرگز نہیں۔ھَلْ شَقَقْتَ قَلْبَہٗ میرے زیرنظر ہے۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔میرا جواب بالکل صاف ہے۔باقی رہا آپ کا افسوس اور نہایت افسوس سو اس پر عرض ہے ہزاروں کو مجھ پر افسوس ہوگا ان میں آپ کا اضافہ تعجب کا موجب نہیں۔میری رائے کی کوئی ضرورت نہیں۔مسلمان بیکار اور نکمے ہیں آج ان کو ایسے کام ضروری اور اصل مطلب کی طرف توجہ نہیں۔یہ تحریر میرے ہاتھ کی ہے میں اس سے عمدہ نہیں لکھ سکتا۔(البدر جلد۱۳ نمبر۱ مؤرخہ ۶؍ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ۳،۴) قوم کی آرام پسندی فرمایا۔حضرت نوحؑ کے زمانہ میں بھی قوم ایسی ہی آرام میں اور دولت مند تھی جیسے کہ آج کل ہے۔مرسلین و مامورین پر ایمان نہ لانے کی وجہ فرمایا۔خدا کے مرسلین اور مامورین پر ایمان