ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 270
بادشاہ کے واسطے یہ نسخہ تجویز کیا تھا جو کسی طب کی کتاب میں درج ہوا اور تخت شاہی کے واسطے عرش کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا۔غرض یہ سب الفاظ اس نسخہ میںموجود تھے بعد میں کسی نے جب اس کتاب کی نقل کی تو معلوم ہوا کہ ان الفاظ کو دیکھ کر اس نے غلطی کھائی اور خیال کیا کہ کاتب نے لکھنے میں طریق ادب اختیار نہیں کیا اس نے حضرت اور علیہ السلام کے لفظ بڑھا دیئے۔اس طرح بات کہیں کی کہیں چلی گئی۔نصیحت اہلیہ صاحبہ ملک کرم الٰہی کو حضرت خلیفۃ المسیح نے مفصلہ ذیل الفاظ نصیحت کے لکھ کر دیئے۔’’جو کام کرو اس میں یہ خیال کرلیا کرو میرا ربّ اس میں راضی ہے یا ہوگا یا نہیں اور دعاؤں کی عادت ڈالو۔‘‘ ہم کعبۃ اللہ میں دعا کی قدر کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھا کہ مجھے آپ کی جماعت کے ایک آدمی کی کسی بات سے معلوم ہوا کہ احمدی لوگ مرزا صاحب کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر جانتے ہیں اور کعبۃ اللہ میں دعا کرنے کی قدر ان کو نہیں اس واسطے میں آپ کی بیعت سے علیحدہ ہوتا ہوں۔حضرت نے جو جواب اس خط کا لکھوایا وہ فائدہ عام کے واسطے درج اخبار کیا جاتا ہے۔ہمارا کبھی وہم و گمان بھی نہیں ہوا اور نہ کبھی ہمارے خیال اور اعتقاد میں آیا ہے کہ معاذاللہ حضرت صاحب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے برابر ہیں۔حضرت صاحب تو یہ فرماتے ہیں کہ بعد از خدا بعشق محمد مخمرم وہ تو خادم دین رسول اللہ ہیں اور نام غلام احمد ہے۔اور اس قرآن اور شریعت کے جو آنحضرت لائے ہیں تابعدار اور سچے فرمانبردار ہیں اور نہ کسی اور احمدی کا یہ عقیدہ ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کسی ناواقف یا کسی مخالف سے باتیں سن کر ایسا سمجھا اور لکھ دیا کہ میں بیعت سے علیحدہ ہوں۔اس