ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 269
جب تک سارا پڑھ نہ لوں صبر نہیں آتا۔خدا بچاتا ہے درس کو جاتے ہوئے ایک چھوٹا سا لڑکا نہایت میلا اور گندے کپڑے پہنے ہوئے کوچہ میں دیکھا۔فرمایا۔ہائی جین والے تو تم کو کہیں گے کہ ابھی مر جائے گا لیکن خدا ہی بچاتا ہے۔غریب پرور ایک شخص نے دریافت کیا کہ اپنے افسر کو غریب پرور سلامت لکھنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اس میں کیا دقت ہے۔امراء غرباء کی پرورش کرتے ہی ہیں۔مسجد میں جوتا مسجد مبارک کے خادم نے عرض کیا کہ بعض لوگ اپنے جوتے تہہ کرکے مسجد کے اندر لا رکھتے ہیں ان کو روکا جائے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔جوتا پہن کر نماز پڑھ لینا بھی جائز ہے تو میں لوگوں کو کس طرح سے روکوں۔باہر رکھنے سے تو لوگ چرا بھی لے جاتے ہیں۔دعا میں عاجزی چاہیے فرمایا۔دعا کرانے کے واسطے جو درخواستیں آیا کرتی ہیں ان میں بعض دفعہ لوگ اپنے دوستوں بزرگوں کے نام بڑے بڑے لمبے لمبے لکھ دیتے ہیں کہ ان کے لیے دعا کی جائے۔مثلاً ایک لڑکے نے لکھا کہ جناب محمد اکبر شاہ خاں صاحب کے واسطے دعا کی جائے۔یہ ٹھیک نہیں۔دعا کے وقت ہر طرح سے عاجزی کا رنگ اختیار کیا جائے۔میں نے دعا میں ایسا ہی کہا کہ اے خدا تو جانتا ہے کہ اس کا نام کیا ہے۔ایسا ہی بعض لوگ بی بی صاحبہ کے متعلق لکھ دیتے ہیں کہ حضرت ام المومنین کے لیے دعا کی جائے۔تب میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس کی اولاد کو نیک بناوے تا کہ اس کا یہ نام سچا ہو۔مغالطے کس طرح لگتے ہیں فرمایا۔ایک طب کی کتاب میں میں نے لکھا ہوا دیکھا کہ یہ نسخہ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے واسطے عرش پر سے لایا تھا۔میں متعجب ہوا نسخہ بھی معمولی تھا۔جب تحقیقات کی گئی اور پرانی کتابوں کا مطالعہ کیا گیا آخیر میں اصل حقیقت یہ کھلی کہ جبریل ایک یہودی طبیب تھا جو ایک اسلامی بادشاہ محمد نام کا معالج تھا اس نے اپنے