ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 266
کلام ہے حق و حکمت سے بھرپور ہے اس کی طرف دعوت کرو۔لو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔آمین۔نورالدین ۵ ؍جنوری ۱۹۱۳ء (البدر جلد ۱۲ نمبر ۲۸ و ۲۹ و ۳۰ مؤرخہ ۳۰؍ جنوری ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) بارہ وفات کے جلسہ کے متعلق رائے مجھے ہمیشہ تعیین تاریخ اور ایسے عرس میں گو نبی کریم ﷺ کا ہی ہو، بدعت نظر آتی ہے۔صحابہ کرام سے بڑھ کر کوئی محب نبی کریم ﷺ کا مجھے نظر نہیں آتا۔نہ تابعین میں نہ تبع تابعین میں۔اس لئے میں ایسی تجویز کو محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔یہ امور مخفی درمخفی رنگ میں روپیہ جمع کرنے کے ذرائع نظر آتے ہیں۔خود مرزا صاحب مغفور نے کبھی بارہ وفات کا جلسہ اپنے گھر میں ہر گز نہیںکیا۔غرض میں اپنے زندگی کے چند دنوں کے لئے بدعات کو گوارا نہیں کرسکتا۔اور ایسے امور میں بدعت کے خطرناک زہروں سے بچنے کا لحاظ ضرور کہو۔(الحکم جلد ۱۷ نمبر ۷،۸مورخہ ۲۱، ۲۸ ؍ فروری ۱۹۱۳ء صفحہ ۷) ہماری طرز کے خلاف ہے کلکتہ کی انجمن معین الاسلام کی طرف سے ایک خط اور اشتہار حضرتخلیفۃ المسیحؑ کی خدمت میں آیا کہ ترکوں کی نئی وزارت کے قائم ہونے پر جس نے یہ اعلان کیاہے کہ ہم مٹ جائیں گے مگر مسلمانوں کی عزت کو ہاتھ سے نہ دیں گے ایک جلسہ کیا جائے گا تاکہ اس آخری اور نازک موقع پر ہم اپنے دلی خیالات دنیا پر ظاہر کریں اور نئی جانباز وزارت کا پرجوش خیرمقدم بجالائیں اور چندہ فراہم کریں۔وغیرہ۔یہ جلسہ ہوگا آپ بھی شامل ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ یہ ہماری طرز کے خلاف ہے۔مباحثہ کی تیاری بنگال میں ایک جگہ سے خط آیا کہ مخالفین سے مباحثہ کی تجویز ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے مفصلہ ذیل جواب لکھا۔