ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 262
۲۔ہستی باری تعالیٰ ، آنحضرتؐ اور قرآن و حدیث پر رسالے لکھنے کی تحریک دوسری تحریک آپ نے یہ فرمائی کہ مال غنیمت کی تقسیم کے لیے جو اللہ اور رسول کا حق ہے اس کا مصرف اس زمانے میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی، اس کی صفات، اس کے افعال، اس کے اسماء، اس کے کلام پاک کی اشاعت پر رسالے اور ٹریکٹ لکھے جائیں اور رسول کا جو حصہ ہے اسے حدیث شریف کی اشاعت اور آپ پر آپ کے نواب پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کے جواب پر خرچ کیا جائے۔۳۔نومبائع مستورات کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت آپ کے درس قرآن میں بہت بڑی تعداد مستورات کی ہوتی ہے۔اس میں غیراحمدی عورتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں۔آپ نے مستورات کی درخواست پر ان کی بیعت لی تاکہ ایسی بیبیوں کے لیے خصوصیت سے دعائیں ہوں اور حضور کو علم ہوجائے کہ کون کون بی بی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہے۔حضرت ام المومنینؓ کو فرمایا کہ ان کی فہرست تیار کرا دیں۔۴۔بدگمانی اور گندوںکی حمایت نہ کرنے کی ہدایت آپ نے نہایت درد سے بھری ہوئی تقریر میں فرمایا کہ میں کسی گندہ شخص یا ایسے لڑکے کا ہرگز ہرگز حامی نہیں اور ایسوں کے لیے تمہارے مہتمموں پر کوئی بے جا دباؤنہیں ڈالتا اور میں پسند نہیں کرتا کہ ایسے لوگ باوجود اصلاح کا موقعہ کئی بار دیئے جانے کے پھر بھی مصلحین میں ملے جلے رہیں۔اموال کے متعلق فرمایا کہ میں بڑا محتاط ہوں۔اپنی محنت سے جو کماتا ہوں وہ اپنے اور اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔کبھی کسی قسم کی بدگمانی کو راہ نہ دو کہ میرا تمہارا رشتہ بہت نازک ہے۔(ماخوذ از اس ہفتہ کی تحریکیں۔الحکم جلد۱۶ نمبر ۳۸ مؤرخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶)