ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 257
بدُوں ولی نکاح بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم بحضور فیض گنجور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ میری سالی نے جو بالغ ہے اور عرصہ ایک سال سے بیوہ تھی خودبخود اب بغیر ولی جائز کی اجازت کے نکاح کرلیا ہے۔کیا یہ نکاح جو بغیر ولی جائز و اجازت وارثان جائز کے کیا ہے از روئے شریعت درست ہے؟ عرضی اللہ دتا ساکن بھینی نقل جواب۔میرے فہم میں شرعاً بدُوں ولی کے نکاح نہیں ہوسکتا۔نورالدین (البدر جلد۱۲ نمبر۲۱ مورخہ ۲۱ ؍ نومبر۱۹۱۲ء صفحہ۷)شکر گزار بندہ فرمایا۔ایک بزرگ کتابوں کا ایک انبار لئے جا رہے تھے۔رستے میں دریا گزرنا پڑا اس میں کتابوں کا بنڈل گر پڑا۔فرمایا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ! خادم نے کہا حضور کتابیں دریا میں گر پڑیں اور غرق ہوگئیں۔فرمایا۔اسی لئے تو میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہتا ہوں۔میں نے ان کتابوں کو پڑھنے کی خاطر خریدا تھا خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے پڑھنے کی تکلیف سے بچا لیا مگر میری نیت کا ثواب مجھے ضرور دے گا۔آنحضرتؐ کے والدین کے نام فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کا نام عبداللہ اور آمنہ ہونا ایک معجزہ تھا۔اگر والد کا نام کہیں عبدالشمس ہوتا (جیسے کہ اس زمانہ میں نام ہوا کرتے تھے) تو عیسائی لوگ ہم کو زندہ نہ رہنے دیتے۔عبداللہ نام رکھنے میں عبدالمطلب کے خیالات کا پتہ چلتا ہے۔حرص اور رشوت خوری فرمایا۔ایک انسپکٹر پولیس تھا وہ رشوت تہجد پڑھنے کے بعد لیا کرتا تھا اپنے آپ کو گالیاں دیتا جاتا۔کمبختو ! مجھے کیوں سؤر کھلاتے ہو؟ کیوں میری عاقبت خراب کرتے ہو؟ اور ادھر روپیہ لیتاجاتا۔حرص یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ گوشت اور سبزی تک کے ’’نمونے‘‘ منگواتا اور ان سے گزر اوقات کرتا قیمتاً خرید کر نہ کھاتا تھا۔آخر کار اسے اوّل داماد لوٹ کر