ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 23

پھر ہر نبی کے لیے ایک نہ ایک بڑا دشمن اٹھتا ہے جسے ایک وقت مقررہ تک مہلت دی جاتی ہے تاکہ اپنا زور لگالے اور اپنے تمام قویٰ اور لاؤ لشکر کے ساتھ ناکام رہ کر ثابت کردے کہ یہ مامور واقعی خدا کا برگزیدہ ہے۔اسی نبی کے ہر ایک قول و فعل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بناوٹ اس میں بالکل نہیں۔اس کی کوئی بات بناوٹ سے نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی فعل تکلف سے ہوتا ہے اور نہ وہ خلقت کو نصیحت دنیوی فائدہ اٹھانے کی امید یا نیت پر کرتے ہیں بلکہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا اجر اللہ پر ہے۔چنانچہ سیدنا و مولٰنا حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو سنا دے (صٓ:۸۷)۔اسی معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ملتا ہے۔آپ اپنے بارہ میں لکھتے ہیں۔؎ ابتدا سے گوشۂ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار (درثمین صفحہ ۱۴۶) اور آپ میں تکلف اور بناوٹ نام کو نہ تھی۔اس کی شہادت ہزاروں آدمی دے سکتے ہیں۔نہ تقریر میں کوئی بناوٹ تھی نہ تحریر میں نہ لباس میں اور (یونس :۷۳) پر جو عمل فرمایا تو اب بھی ظاہر ہے کیونکہ اپنے لیے باوجود اس قدر روپیہ کے آنے کوئی جائداد نہیں خریدی اور نہ کوئی نفع اپنی ذات کے لیے مخصوص کیا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ (الحکم جلد۱۶ نمبر۸ مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۹۱۲ء صفحہ ۴، ۵) حضرت خلیفۃ المسیح کا ریویو برکتاب ’’چشمہ زندگی‘‘ ’’سوجیوں سردور‘‘ کیا معنے ’’چشمہ زندگی‘‘ جناب کی تصنیف کو میں نے ۱۵؍ جنوری جس وقت ڈاک میں آئی پڑھا اور دلچسپی سے پڑھا۔فزیکل