ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 22

سرفراز ہوگا۔چنانچہ (صٓ :۳۵) اور (یوسف :۲۳) ایسے پاک کلمات سے ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔حضرت ایوب کے صبر کا بیان کیا ہے۔انبیاعلیہم السلام خدا کے حضور بڑے ادب سے کام لیتے ہیں۔وہ کسی دکھ کو اس کی طرف منسوب نہیں کرتے۔جب وہ خدا کے حضور اپنی تکالیف کے متعلق گڑگڑائے تو ارشاد ہوا (صٓ :۴۳) اپنی سواری کو اس سرزمین کی طرف لے چل جہاں آپ کے لیے آرام کے سامان مہیا ہیں اور وہاں اہل و عیال اور احباب اس کی مثل دیئے جاویں گے۔اور اپنی سواری کو درخت کی ایسی شاخوں سے جس کے ساتھ پتے بھی ہوں چلائے جا مگر اسے ضرر نہ پہنچا۔یہ دراصل ایک پیشگوئی تھی۔نبی کریم صلعم سے بھی ایسا ہی معاملہ پیش آنے والا تھا۔چنانچہ آپ نے بھی مکہ سے ہجرت فرمائی اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے جہاں آپ نے بہت سے اہل اور وفادار احباب پائے۔اب بھی جو خدا کی راہ میں ہجرت کرے اس کے لیے امن و آسائش بموجب وعدہ الٰہی (النساء :۱۰۱) موجود ہے اور ہرگز خیال نہ کرے کہ اگر میں اپنا گھر یا اپنے رشتہ دار چھوڑ کر جاؤں گا تو نقصان اٹھاؤں گا۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کو بہتر سے بہتر احباب، اصحاب اور رشتہ دار دے گا۔راستباز کی پہچان کسی نبی کسی مامور کے دل میں یہ خواہش پنہاں نہیں ہوتی کہ میں لوگوں کا حاکم بنوںاور بڑا آدمی کہلاؤں۔وہ مخلوق سے کنارہ کش اور گوشہ نشین ہوتے ہیں پھر خدا تعالیٰ انہیں اپنے حکم سے نکالتا ہے تو وہ مجبور ہوکر پبلک میں آتے ہیں۔حضرت موسیٰ کو دیکھو کہ آپ کے دل میں ہرگز یہ بات نہ تھی کہ میں قوم کا امام بن جاؤں۔چنانچہ ارشاد ہونے پر عذر و معذرت کرتے اور اپنے بھائی کو  (القصص :۳۵) سے پیش کرتے ہیں۔اسی طرح نبی کریم صلعم فرماتے ہیں۔(صٓ :۷۰) مجھے کیا علم تھا کہ ملاء اعلیٰ میں میری نبوت کی نسبت کیا مباحثات ہورہے ہیں جیسا کہ ہر مامور کی بعثت پر آسمانوں میں بڑی بحث ہوتی ہے۔