ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 232 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 232

سے آدمی جماع کرسکتا ہے اور نہ ہی سولہ لاکھ سے محبت کرسکتا ہے۔نہیں تو کوئی ہم کو سمجھادے۔دراصل نکتہ یہی ہے مگر کم علمی کی وجہ سے اپنے مذہب کو بھول گئے۔پھر فرمایا کہ یہ بھی ایک بڑا بھاری مسئلہ ہے کہ کرشن پہلے ہوئے یا رام چندر جی؟ رامائن میں کرشن کا ذکر نہیں اور مہابھارت میں رامچندر کا ذکر نہیں۔پھر کوروں پانڈو کے جنگ میں یہ لوگ اس کو بھی شریک کرتے ہیں۔جب تمام لوگ دور دور سے آئے تو رام چندر کا کچھ ذکر تو ہوتا۔پھرفرمایا۔بعض کشفی معاملات ہوتے ہیں۔لوگ مانیںیا نہ مانیں۔مجدد الف ثانی کہتے ہیں کہ سر ہند کا جو ٹبہ ہے وہاں نبیوں کی قبریں ہیں۔صرف سرہند کے شہر میں۔یہ کشفی معاملہ ہے۔پھر فرمایا۔مظہر جان جاناں متھرا گئے تو کشف میں آپ کو سات روپیہ دئیے اور کہا کہ آپ ہمارے ملک میں آئیے اور یہاں رہیے ہم آپ کی دعوت کے طور پر یہ روپیہ دیتے ہیں۔تو آپ نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا۔میں کرشن ہوں۔(ماخوذ از بدر منور۔البدر جلد۱۲ نمبر۱۴مورخہ ۳ا؍ کتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ۳) حضرت خلیفۃ المسیح کے خطوط ظہیر کے نام پہلا خط السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کا لمبا چوڑا خط مجھے پہنچا ہے۔آپ ایک جوان آدمی ہیں اور میں بڈھا ہوں۔آپ کو خوب فرصت ہے اور میں عدیم الفرصت ہوں۔آپ نہ میری مجلس میں رہے اور نہ میری طرز تعلیم کو پایا۔آپ کا یہ فقرہ کہ ’’آپ کے بعض اعتقادات سے مجھے اختلاف ہیں۔‘‘ آپ کی طبیعت میں تیزی بھی ہے۔میری مخالفت میں آپ مستقل ہیں مگر آپ ویسے مستقل نہیں۔مجھ پر جتنے اعتراض چاہو کرلو۔