ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 221 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 221

پہلے زمانہ میں بادشاہ لوگ خود رات کو پہرے دیا کرتے تھے۔ایک بادشاہ سنتاتھا اور ایک شاعر رات کو ایک شعر پڑھ رہا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے کنواری لڑکی کو گرا لیا اور پھر اس کا …۔صبح کو اس نے اس کو پکڑا اور کہا کہ میں تم کو قتل کروں گا۔اس نے کہا کیوں؟ بادشاہ نے کہا کہ تو نے خود زنا کا اقرار کیا ہے۔اس نے کہا کہ نہیں۔بادشاہ نے اس کو اس کاوہ شعر پڑھ کر سنایا اور دریافت کیا کہ بتاؤ یہ شعر کس کا ہے؟ اس نے کہا یہ شعر تو میرا ہی ہے اور رات میں اس کو پڑھ رہا تھا کہ اچھا اب بھی اقرار ہوا یا نہیں۔کہا کہ نہیں کیونکہ قرآن میں لکھا ہے(الشعراء :۲۲۷) یہ کہتے تو ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔سو جناب ہم نے بھی کہہ تو دیا مگر کیا کرایا کچھ نہیں۔عرب میں ایک مرتبہ میں ایک گاؤں میں چلا گیا۔رات کو واپس آیا چاندنی رات تھی۔ایک گدھے والا شخص راستے میں ملا۔اس کے ایک لڑکا دائیں طرف تھا اور ایک بائیں طرف تھا۔ہم بھی ساتھ ہی تھے تو وہ خاطر میں ہی نہ لایا اور سارے راستے وہ تینوں گاتے ہی چلے آئے۔سَوْقُکَ بِالْقَوَارِیْرِ۔شیشے لدے ہوئے ہیں یا عورتیں سوار ہیں ایسا نہ ہو کہ اونٹ ُکودے اور عورتیں گرجائیں یا ان کو ابتلاء ہو۔حضرت نبی کریم ﷺ جب کسی شخص کو جہاد کے وقت رخصت کرتے وقت رَحِمَ اللّٰہُ یا یَرْحَمُہُ اللّٰہُ فرما دیتے تھے تو یقینا وہ شخص شہیدہو جاتا تھا۔محمد نامی چور اور ایک میراثی ایک شخص محمد نامی نے (جو چور تھا) ایک ڈوم کو بہت تنگ کیا۔اس نے کہا کہ میں تیری (سٹ) ہجو کہوں گا۔اس پر اس نے کہا کہ اگر تو میرے لئے سٹ طیار کرے گا تو یاد رکھ میرا نام محمد ہے میں تجھے کافر بنا کر تیری خبر لوں گا۔اس مراثی نے ہجو طیار کی جس کے ہر شعر کے آخر میں یہ آتاتھا کہ جس دا اسیں کلمہ پڑھ دے او محمد ہو رہے ایہہ محمد چور ہے