ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 222 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 222

۲۴؍ نومبر ۱۹۱۲ء طبّ کرنے کو جی نہیں چاہتا میںنے حضرت صاحب سے پوچھا تھا کہ طب کرنے کومیرا جی نہیں چاہتا۔فرمایا کہ آپ نے اس کو بڑی محنت سے پڑھا ہے ضائع مت کرو۔موت کی دعا بہت سے لوگوں نے موت کی دعا کی ہے اور لکھا ہے کہ امام بخاری نے بھی کی اور سجدہ میں مر گئے۔سعد بن معاذ نے سناہے کہ یہ کہا تھا کہ اگر قریش سے لڑائی ہے تو میں زندہ رہوں ورنہ میرا زخم کھل جائے اور میں مر جاؤں۔کہتے ہیں کہ اسی وقت ان کا زخم کھل گیا اور وہ مرگئے۔مولویوں کے فتوے حضرت نظام الدین خواجہ کی قبر دہلی سے سات کوس پرے ہے۔جب مولویوں کے فتوؤں سے تنگ ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ کہیں اور جگہ ڈیرہ لگانا چاہیے۔چنانچہ وہ دہلی سے اٹھ کر وہاں چلے گئے جہاں پر اب ان کا مزار ہے۔پھر مولویوں کی جانب سے یہ ان پر فتویٰ لگایا گیا کہ یہ شخص بڑا متکبر ہے بادشاہوں کے سلام کو نہیں آتا۔بادشاہ نے حکم دیا کہ ہم فلاں دن دربار کریں گے تمام علماء اور شیوخ کو حاضر ہونا پڑے گا اور جو نہ آئے گا اس کو قتل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میرے تو پیر نے دربار میں جا کر سلام کرنا نہیں بتایا میں کیسے جا سکتا ہوں۔لوگوں نے کہا کہ اگر آپ نہ گئے تو کل بادشاہ مروادے گا۔آپ نے فرمایا۔مترس از بلائے کہ شب درمیاں جب ابوالفضل اور فیضی پر فتوے لگنے شروع ہوئے تو قبل اس کے کہ ان کی طرف سے بادشاہ کو بدظن کیا جاتا وہ خود اکبر بادشاہ کے پاس جاپہنچے دونوں بھائی بڑے ہوشیار تھے پھر انہوں نے مولویوں کی کچھ نہیں چلنے دی۔اکبر بادشاہ جب دربار کرتا تو ایک بڑے لوہے کے پنجرے پر بیٹھا کرتا تھا اور اس کے اندر کوئی نہیں جاسکتا تھا۔ابوالفضل کے بھائی فیضی نے ایک مرتبہ بادشاہ کی تعریف میں ایک قصیدہ لکھا اور کہا کہ قصیدہ اس وقت سناؤں گا جب پہلے ایک رباعی پڑھنے کی اجازت دی جاوے۔اس نے کہہ دیا کہ اچھا ایسا ہی کرو۔ایک رباعی پڑھی جس کا ایک مصرع یہ تھا کہ