ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 21 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 21

معنی ہیں کہ جب داؤد نے یقین کیا کہ رعایا میں بغاوت اور بدامنی کا زور ہے تو سمجھا آخر کوئی کمزوری اور نقص ہے جس کی وجہ سے حکومت کے رعب و جلال میں فرق آرہا ہے۔اس لیے خدا سے مغفرت طلب کی اور خدا کے حضور گر پڑے تو خدا نے آپ کی حفاظت کی اور اپنے تسلی بخش کلام سے ممتاز فرمایا۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ خلیفہ تو ہم نے تجھے بنایا ان لوگوں کی شرارتوں کا کیا خوف اور کیوں پریشان ہوتے ہو۔تم حق حق فیصلہ کرتے جاؤ اور عدل و انصاف پر قائم رہو تمہاری ہی فتح ہوگی۔حضرت سلیمان کی نسبت بعض لوگوں نے یہ مشہور کررکھا ہے کہ آپ کی عصر کی نماز قضا ہوگئی تو گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار سے اڑادیا۔یہ مجنونانہ فعل ایک نبی کی شان سے بعید ہے۔بات یہ ہے کہ آپ گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ حُب بھی دو قسم کی ہے۔بعض حبیّں دکھ کا موجب ہوتی ہیںجیسے عشق مگر میری یہ حُب جو ان گھوڑوں سے ہے یہ پسندیدہ حُب ہے کیونکہ ان سے میں اپنے مولا کو یاد کرتا ہوں۔حدیث شریف میں آیا ہے اَلْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِیْ نَوَاصِیْھَا الْخَیْرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ (صحیح البخاری کتاب الجہاد و السیر باب الخیل معقود فی نواصیھا) آپ خدا تعالیٰ کے فضل و احسان بیان کرنے میں مشغول رہے اتنے میں گھوڑے سامنے سے گزر گئے۔( صٓ :۳۳)۔آپ نے فرمایا۔انہیں پھر واپس لاؤ۔جب پھر گزرنے لگے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔گھوڑوں کو پیار کرنے کا یہی طریق ہے۔اگر مسح کے معنی تلوار مارنے کے ہی ہوں تو پھر سب سے پہلے وضو کرنے والے ہی اپنی گردن کاٹ لیا کریں۔آپ ہی کے متعلق ( صٓ :۳۵) آیا ہے۔جس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا بیٹا نالائق تھا اور ( صٓ :۳۶)سے مراد رضا و قرب الٰہی کا مقام ہے۔ایوب صابر دوسری کتابوں کے قصے اور خدا کی کتاب میں جو واقعہ گزشتہ بیان ہو اس میں فرق یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں صرف قصہ نہیں ہوتا بلکہ بتایا جاتا ہے جو ایسا کرے گا وہ بھی انہیں انعامات سے