ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 216
درسی کتاب کے نام کی وجہ تسمیہ ایک بار آپ بھیرہ تشریف لے گئے۔میں(مفتی محمد صادق) اس وقت جماعت سوم مڈل میں پڑھتا تھا اور میری عمر کوئی تیرہ سال تھی۔آپ نے مجھ سے دریافت کیا کہ کون سی کتاب پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ مورل ریڈر۔فرمایا کہ الفاظ مورل ریڈر کے معنی کیا ہیں؟ میںبتا نہ سکا کیونکہ ہمیں مدرسہ میں استاد کتابیں پڑھاتے تھے مگر کبھی یہ نہ بتلاتے تھے کہ اس کتاب کا جو نام ہے اس کے کیا معنی ہیں یا اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔فرمایا۔اچھا ہم کل پوچھیں گے۔دوسرے دن میں نے عرض کیا کہ اس کے معنے ادب آموز کتاب۔میرے ساتھ میرے ایک عزیز دوست تھے ان سے بھی یہی سوال ہوا مگر انہوں نے میرے معاملہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی درسی کتب میں سے ایک ایسی کتاب کا نام لیا جس کے معنے وہ جانتے تھے۔خدا تعالیٰ انہیں دینی و دنیوی رہنمائی عطاکرے اور ان پر اپنا فضل عظیم کرے کہ وہ میرے بچپن کے یار ہیں۔اس امتحان سے میںنے یہ فائدہ اٹھایا کہ بھیرہ،جموں ، لاہور اور قادیان میںجہاں کہیںمیں نے مدرسی کی۔میںمتعلمین کو ہمیشہ کتاب کے نام کی وجہ تسمیہ بھی بتلاتا رہا ہوں۔۱۴؎ اہل کتاب کا کھانا ایک دفعہ آپ بھیرہ میں گئے تو وہاں کے ایک مشنری عیسائی نے آپ کی دعوت کی۔دعوت کو آپ نے قبول کیا۔آپ نے اس کے مکان پر جا کر کھانا کھایا۔کچھ مذہبی گفتگو بھی درمیان میں آنے لگی مگر عیسائی صاحب نے اعراض کیا۔اس دعوت کے کھانے پر بھی کچھ خفیف سی ہلچل شہر میں ہوئی مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ حضرت کو کچھ کہہ سکے۔ہاں محلہ کی ایک عورت جس کی آمد ورفت آپ کے ہاں بہت تھی اور بے تکلفی سے آپ کے حضور بات کر سکتی تھی یہ ذکر کیا کہ آپ نے عیسائیوں کا پکا ہوا کھانا کیوں کھایا؟ آپ نے اس کو اس کی سمجھ کے مطابق جواب دیا کہ