ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 215

آنحضرتؐ کی صداقت کا ظاہری معجزہ پکے سچے متقی ایمانداروں کا ذکر تھا۔فرمایا۔جن دنوں انگریزوں نے کابل پر چڑھائی کی تھی ان دنوں میں ایک انگریز پادری گارڈن نام ہمارے شہر آیا کرتا تھا۔اس کی کوٹھی شہر سے باہر سڑک کے کنارے پر تھی اور اس سڑک پر سے کابل جانے والی فوجیں اور بار برداری کے سامان کثرت سے گزرا کرتے تھے۔میں اس پادری کے پاس جایا کرتا تھا اور مذہبی گفتگو ہوا کرتی تھی۔ایک دن اس نے سوال کیا کہ محمد صاحب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سچائی کا کوئی ظاہری معجزہ ہمیں دکھائو۔میں نے اس سڑک کی طرف اشارہ کیا اور کابل کی سمت بھی وہی تھی۔پہلے تو وہ نہ سمجھا اور دو تین دفعہ اس نے بات کو دہرایا لیکن آخر بات کو سمجھ گیا اور کہا ’’کابل ‘‘ ’’کابل ‘‘ میں نے کہا ہاں کابل۔کہنے لگاا س میں کیا معجزہ ہے کھول کر بیان کیجئے؟ میںنے کہا دیکھئے۔اوّل تو آپ اپنی دولت اور مسلمانوں کی دولت کا مقابلہ کریں۔آپ کی دولت کا حساب اربوں پر بھی ختم نہیں ہوتا اور ہماری دولت کا یہ حال ہے کہ گنتی کے لئے سب سے بڑا لفظ ہمارے پاس الف ہے جس کے معنی ہیں ہزار۔اس کے آگے کوئی لفظ ہی نہیں۔پھر اس امر پر غور کریں کہ آپ کا بل سے کیا چاہتے ہیں نہ آپ ان کا مذہب لینا چاہتے ہیں نہ ان کے رسوم بدلنا چاہتے ہیں نہ آپ ان کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔صرف سرحد پر امن کرنا آپ کا مقصد ہے اور بس۔آپ کا لشکر ہزاروںکی تعداد میں اور سامان حرب کس قدر ہے۔اس کے بالمقابل مسلمانوں نے کابل کو کس طرح فتح کیا۔آپ غور فرماویں۔جب سلطنت اسلامیہ کے مرکز میںبڑے لوگوں کا آپس میں کچھ تنازع تھا تو عبدالرحمن بن سمرہ نے چند آدمیوں کو ساتھ لیا اور کہا کہ دارالخلافت سے تو سردست کوئی ارشاد نہیں کہ ہم کہاں جائیں اور کیا کریں۔آؤ اس عرصہ میں ذرا کابل کو ہی فتح کرلیں۔کل چودہ آدمی اس کے ساتھ تھے جن کو لے کر اس نے کابل پر چڑھائی کی اور کابل سے کیا لینا چاہا ملک پر قبضہ، رسوم کی تبدیلی، مذہب کی تبدیلی اور یہ سب کچھ کر کے دکھادیا۔کیا یہ اسلامی معجزہ نہیں جو اس وقت آپ کو دکھلایا اور منوایا جارہا ہے۔یہ بات سن کر پادری صاحب کو جوش آیا کہ وہ بھی فتح کابل میں شریک ہوں اور وہاں صلیب کا جھنڈا گاڑیں۔سو وہ قندھار کو چل پڑے اور چند روز کے بعد خبر آئی وہ قندھار میں توپ سے اڑائے گئے۔