ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 212
حالت دیکھی جاتی ہے یا کوئی اندرونی راز بھی مخفی ہوتا ہے کیونکہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ایک ظاہر اً غالب آیا دوسرا ظاہر مغلوب ہوا لیکن مغلوب ہو کر بھی اپنے دعویٰ کا اقرار کرتا رہا تو ان دونوں میں سے جناب کے نزدیک کون کامیاب رہا اور حق کس کے ساتھ رہا۔آخر الا مر اگر قرآن پاک میں نام نہیں تو کسی حدیث میں ہونا چاہیے۔حدیث شریف کا پتہ بتا دیں کیونکہ یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ ختم المرسلین جیسے مرسل اولوالعزم کے خلیفوں کا نام نہ قرآن پاک سے ملے اور نہ حدیث شریف سے اور وہ حضرت بغیر اپنے خلیفوں کے نام بتانے کے بڑی بھاری امت کو چھوڑ کر گئے ہوں۔کئی امور اس عریضہ میں نئے الفاظ سے عرض کئے گئے ہیں ورنہ پہلے ہی عریضوں کی نقل ہے اور ابھی جناب کے جوابات میں سے کئی مسائل کی تحقیق باقی ہے۔خاکسار از ملتان جواب از جانب حضرت خلیفۃ المسیح مکرم معظم حضرت شاہ صاحب السلام علیکم مفتی۱؎ اور خاکسار کے پاس ہزارہا خطوط آتے ہیں کس کس کو محفوظ رکھیں۔نمبر ایک و دو پر جناب نے کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔نمبر ۳ پر اعتراض ہے جس کو کسی سے مخالفت نہ ہو وہ کیونکر معلوم کرے کہ فلاں مدعی حق پر ہے۔جناب من ! یہ سنت اللہ ہے۔نیکوں کی مخالفت ہوا کرتی ہے بلکہ انبیاء تک مخالفت و عداوت ضروری ہے۔غور فرماویں (الانعام :۱۱۳) اور عام ارشاد مومنوں کو ہے۔(الانفال :۶۱) ہے۔جو مخالف نہیں وہ اور اعداء دین کو دیکھے۔۱؎ مفتی محمد صادق خادم ڈاک۔ایڈیٹر بدر