ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 20

مجھے لادو۔ایسا ہی میں دیکھتا ہوں کہ پاگل روٹی منہ میں ہی ڈالتا ہے۔میں پچاس سال سے طب کا پیشہ کررہا ہوں میں نے کوئی مجنون ایسا نہیں دیکھا جو کھانا کھاتے ہوئے منہ کی بجائے کسی اور جگہ ڈالتا ہے۔ایک زمیندار بھی اس نکتہ کو خوب سمجھتا ہے کہ غلہ کے حصول کے لیے زمین کی کاشت اور پھر اس میں تخمریزی، آب رسانی کی ضرورت ہے اور باوجود اللہ تعالیٰ کو جاننے اور (ھود:۷) (کوئی جانور نہیں مگر کہ اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے) پر ایمان لانے کے محنت کرتا اور ان اسباب سے کام لیتا ہے۔ایک بیوقوف سے بیوقوف شخص بھی مانتا ہے کہ آنکھیں بند کرلیں تو زبان سے نہیں دیکھ سکتے اور مشک کا منہ اگر کھول دیں تو پانی سے خالی ہوجائے۔غرض یہ تو سب جانتے ہیں کہ سلسلہ اسباب کا مسببات سے وابستہ ہے اور ہر ایک فعل کا ایک نتیجہ ہے اور خدا تعالیٰ کے قواعد و ضوابط اٹل ہیں مگر بڑے تعجب کی بات ہے کہ بایں ہمہ لوگ دین میں بداعمالی و نیک اعمالی کے نتائج سے غافل ہیں اور جنت کو بغیر کسی عمل صالح و ایمان صحیح کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔دین کے بارے میں (المائدۃ : ۴۰) (اللہ بخشنہار) (البقرۃ : ۲۱) (اللہ ہرچیز پر قادر ہے) پڑھنے میں بڑے دلیر ہیں۔کچھ داؤد و سلیمان علیہما السلام کی نسبت سورۃ صٓ میں چند آیات کے معانی نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت داؤد پر تہمت لگادی ہے کہ انہوں نے ایک بی بی کے خاوند کوجنگ میں بھجواکر مروادیا اور اس کی بی بی سے خود نکاح کرلیا اور فرشتے انہیں سمجھانے آئے حالانکہ یہ بات ہے کہ وہ ملائکہ نہ تھے بلکہ دشمن تھے کہ دیواریں پھاند کر آپ کے مکان میں گھس آئے تھے۔آپ بہت گھبرائے کہ ملک میں انارکسٹوں کا غلبہ ہے اور وہ یہاں تک دلیر ہوگئے ہیں کہ شاہی خیموں میں کود کر آنے میں تامل نہیںکرتے۔مگر معاً شاہی رعب ان پر غالب آیا اور انہوں نے ایک جھوٹی بات بنا لی۔آپ نے نہایت متانت سے انہیں جواب دیا اور (صٓ :۲۵) کے یہ