ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 19
(الدخان :۱۱) کا خیال فرمایا تھا۔ابن عربی نے اپنا ایک ذوقی (نکتہ) اس واقعہ کے متعلق لکھا ہے۔وہ کہتے ہیں ابن صیاد کو دُخ بھی معلوم نہ ہوتا مگر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طور پر بغیر صریح امر ربی تشریف لے گئے تھے۔میں نے اس حکایت سے یہ فائدہ اٹھایا ہے کہ مباحثہ کبھی اپنی خواہش سے نہیں کرنا چاہئے اور کبھی پہل نہ کرو۔چنانچہ میرا معمول ہے کہ جب بات گلے پڑ جائے تو پھر میں اللہ سے دعا مانگتا ہوں اور خدا کے فضل سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہوں اور مجھے کوئی ایسا واقعہ یاد نہیں کہ میں نے کسی مباحثہ میں زک اٹھائی ہو۔مامورین کی جدا بات ہے۔انہیں تو اللہ کے حکم سے بعض وقت چیلنج کرنا پڑتا ہے مگر غور سے دیکھا جائے تو ابتدا ان کی طرف سے بھی نہیں ہوتی۔ایک علمی لطیفہ بعض لوگوں نے قرآن مجید کی زبان پر اعتراض کیا کہ (صٓ :۶) اور کِبَارًا اور ھُزُوًا خلاف محاورہ و غیر فصیح الفاظ ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اپنے کسی زبان دان بوڑھے کو بلا لاؤ۔چنانچہ ایک کو مجلس نبوی میں لے آئے۔آپ نے اسے فرمایا بیٹھ جاؤ۔جب بیٹھا تو فرمایا ذرا اٹھنا۔پھر بیٹھا تو پھر فرمایا ذرا آپ اٹھ کر اس طرف تشریف رکھ لیں۔جب وہ اس طرف بیٹھا تو پھر آپ نے فرمایا آپ ذرا یہاں سے اٹھیے اور ادھر آجائیے تو وہ جھنجلا کر بول اٹھا یَا مُحَمَّدُ اَتَتَّخِذُنِیْ ھُزُوًا وَ اَنَا شَیْخٌ کِبَارٌ اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ عُجَابٌ۔اے محمدؐ کیا تو مجھے خفیف بنانا چاہتا ہے حالانکہ میں ایک بڈھا بڑی عمر کا آدمی ہوں۔یہ بڑی عجیب بات ہے۔اس طرح پر وہ تینوں الفاظ اس زبان دان تجربہ کار فصیح و بلیغ بڈھے کے منہ سے نکلوالیے اور معترضین نادم ہوکر دم بخود رہ گئے۔لوگ کیوں غافل ہیں ایک بچہ بھی جزو کل میں فرق سمجھتا ہے۔آپ اسے ایک چیز دے کر پھر اس سے آدھی دیں تو وہ فوراً اپنی ناراضگی کا اظہار کرے گا۔جس سے ثابت ہوگا کہ وہ جزو کل میں خوب فرق سمجھتا ہے۔پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کسی چیز کے حصول کے لیے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی چیز اس کے دست قدرت سے اوپر یا دور پڑی ہوگی تو وہ اپنی اماں سے اشارۃً کہے گا کہ وہ