ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 205
میں آنکھیں کھول کر تم کو دیکھ رہا ہوں۔اگر میری خوشی ہو تو آنکھیں بند کر لوں اور تم کو نہ دیکھوں۔انسان نہ سارا مجبور ہے اور نہ سارا مختار ہے بلکہ مجبور و مختار کا لفظ ہی گندا ہے کیونکہ مجبور کو پکڑنا بھی ظلم ہے اور مختار کو پکڑنا بھی ظلم ہے۔مثلاً گورنمنٹ اور شریعت اسلام نے خود کشی کو منع فرمایا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کو زبردستی پکڑ کر کسی ( ہمپب پچکاری) کے ذریعہ سے زہر پلا دے تو نہ وہ گورنمنٹ کا مجرم ہے او رنہ شریعت کا۔میں نے بہت سے مذہبوں کو چھوڑ دیا ہے۔اس لئے کہ وہ ہمارے ایسے قویٰ پر حکومت کرتے ہیں کہ جو ہمارے قبضہ سے باہر ہیں۔مثلاً عیسائی شریعت کہتی ہے کہ ایک تین اور تین ایک۔پس چونکہ ہم میں خدا نے کوئی ایسی قوت نہیں رکھی جس کے ذریعہ سے ہم اس کو مان لیں اور چونکہ یہ فطرت انسانی کے خلاف ہے اس لئے بالکل جھوٹ او رباطل ہے۔جو حصہ انسان کے دخل و تصرف کے نیچے ہے اُس میں خدائی صفات کی بھی ایک جھلک نظر آتی ہے۔مثلاً خدائے تعالیٰ رحیم ہے تو انسان میں صفت رحیمیت پائی جاتی ہے۔خدا ئے تعالیٰ غنی ہے تو انسان بھی بے پرواہ ہونے کی خواہش کرتا ہے۔میں نے قرآن شریف کو اس نیت سے بھی پڑھا ہے کہ کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے جو ہماری طاقت سے باہر ہو تو معلوم ہوا کہ نہیں ہر گز نہیں بلکہ شروع ہی میں(الفاتحۃ :۶) لکھا ہوا ہے۔اس میں نہ کوئی کمی ہے اور نہ کوئی زیادتی۔یہ ایک راہ ہے جیسے دو نقطوں کے درمیان ایک سیدھا خط ہوتا ہے۔یہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے جو اس سے ادھر ادھر ہو جاتا ہے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔بعض لوگ ایسی پاک و مطہر تعلیم کے ہوتے ہوئے نیچے گر گئے اور بعض اس سے بھی زیادہ بلندپروازی کرنا چاہتے ہیں۔رہبانیت جائز نہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ تمام عمر روزے ہی روزے رکھتے ہیں۔