ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 203
قرآن شریف کی خوبی فرمایا کہ قرآن کریم بھی کیا ہی لطیف کلام ہے کہ وہاں پر رمی کا لفظ رکھا ہے کیونکہ جس خدا کا کلام ہے اس کو معلوم تھا کہ ایک زمانہ میں تیر موقوف ہو کر بندوق اور تار پیڈو وغیرہ جاری ہو جائیں گے۔(الملک :۴) کے معنے ہیں کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح یا جس کام پر مقرر کر دیا اس میں فر ق نہیں آتا۔مثلاً دن کا رات کے بعد اور رات کا دن کے بعد دَور لگادیا۔وہ اسی طرح ہے اس کے خلاف نہیں ہوتا۔اسی طرح زمین 360دن میں سورج کے گرد گردش کر کے اپنا دور پور ا کرتی ہے تو وہ اسی طرح سے ہے جتنے عرصہ کے بعد اس سال موسم تبدیل ہوتے رہیں گے اتنے ہی عرصہ کے بعد آئندہ سال میں بھی تبدیل ہوں گے۔جَوَّاظ۔مٹک کر ، تکبر سے چلنا۔زَنِیْمٌ۔لِیْقٌ جس کا تعلق تھوڑا سا ہو۔گلے میں جو گانی ہوتی ہے اس کو زَنَمَۃٌ کہتے ہیں۔ولد الزنا کو بھی زنیم کہتے ہیں۔شریر آدمی کو بھی زنیم کہتے ہیں۔خدا کے بندوں کی بد دعا سے ڈرنا چاہیے بعض اللہ تعالیٰ کے بندے ہوتے ہیں۔بڑے نرم ہوتے ہیں مگر بڑے گرم بھی ہوتے ہیں۔حضرت نوح ؑ کو دیکھو کہ جب سمائی کی تو اس قدر عرصہ گزار دیا مگر جب گرم ہوئے تو صاف کہہ دیا۔(نوح :۲۷)۔اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کا حال ہے۔میں ایسی باتوں کا معتقد ہوں اس لئے سناتا ہوں۔امام شعرا نی ؒ کہتے ہیں کہ مصر میں کسی … ایک محلہ میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ان کی خدمت میں چند چھوٹے چھوٹے لڑکے رہتے تھے۔ا ہل محلہ نے کہا کہ یہ شخص تو لوطی ہے۔۔انہوں نے ہر چند سب کو سمجھایا کہ تم ایسا نہ کہو مگر وہ باز نہ آئے۔آخر کار انہوں نے تمام اہل محلہ کو جمع کر کے بددعا کی کہ تم سچے ہو تو خدا کا ہم پر غضب ہو لیکن اگر تم جھوٹے ہو تو اگر تمہاری لڑکیاں پیدا ہوں تو وہ زانیہ اور اگر لڑکے ہوں حِیض اور بدمعاش پیدا ہوں۔ان لوگوں نے آمین کہہ دیا۔بس پھر کیا تھا فوراً دعا