ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 18
اس کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ ہم تو یونیورسل بات ضرور مانتے ہیں اور تجربہ اور مشاہدہ کو صحیح جانتے ہیں۔کیا یہ بات ان کے تجربہ میں نہیں آئی کہ بیٹھے بیٹھے یکدم بدی یا نیکی کی تحریک ہوتی ہے۔جب ہر تحریک کے لیے ایک محرک ہے تو کیا وجہ کہ اس بدی یا نیکی کے محرک شیطان یا ملک پر ایمان نہیں لاتے۔معیار صداقت مذاہب مختلف مذاہب کا یہ حال ہے اب یہ سوال کہ سچا مذہب کون سا ہے بہت صفائی سے حل ہوسکتا ہے۔وہی جو فطرت صحیحہ کے مطابق انسان کو دینی دنیوی ترقیات دلانے والا ہو اور ہرزمانہ میں اس کے نمونہ خلقت کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ایک امیر نے مجھے کہا کہ پراچین مذہب سچا ہوسکتا ہے۔(اس کا مطلب تھا کہ اسلام تو تیرہ سو برس سے ہے وہ سچا نہیں ہوسکتا۔) میں نے کہا بہت صحیح اسلام بھی پراچین ہی ہے کیونکہ ہمارے نبی کریم صلعم کو ارشاد ہوتا ہے (الانعام :۹۱)۔وہ کہنے لگا رامچندر جی بہت پہلے ہوئے ہیں۔میں نے کہا وہ کس کی پرستش کرتے تھے؟ کہا وشنو کی۔میں نے کہا وشنو کس کی؟ کہا ردر کی۔میں نے کہا اور ردر کس کی؟ کہا برہما کی۔میں نے کہا برہما کس کی؟ اسے کہنا پڑا پرمیشور کی۔میں نے کہا پس لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ کے قائل تھے جو ہمارے مذہب اسلام کا خلاصہ ہے اور یہی پراچین مذہب ہے۔انبیاء کس قدر محتاط ہوتے ہیں جب ابن صیاد کی بعض مشابہ بہ دجّال شعبدہ بازیوں کا حال نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچا تو آپ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے پوچھا اَتَشْھَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب دیا آپ امیوں کے رسول ہیں۔پھر اس نے اپنی نسبت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا میں اللہ کے سب رسولوں کو مانتا ہوں۔اس سے اس احتیاط کا پتہ چلتا ہے جو انبیا کرتے ہیں۔یہ اور ان کے پیرو لوگ کبھی تکذیب کی راہ اختیار نہیں کرتے۔پھر آپ نے پوچھا کہ میرے دل میں اس وقت کیا ہے تو اس نے کہا دخ۔روایت میں آیا ہے کہ رسول ﷺ نے اس وقت