ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 182

شادی کرنی ہے اس آسامی پر ہو کر کچھ روپیہ جمع کرلوں گا۔فرماتے ہیں ہم نے اس کی سفارش کرنے سے انکار کر دیا۔عورتوں کے حقوق فرمایا۔اسلام میں عورتوں کے حقوق کی بڑی حفاظت کی گئی ہے مگر عملی طور پر سوائے مکہ مدینہ کے یہ حفاظت کسی اور جگہ نہیں پائی جاتی۔وہاں زر مہر تو دم نقد نکاح کے وقت لے لیا جاتا ہے۔آئندہ سوال رہ جاتا ہے نان و نفقہ کا یا خاوند میں قوت باہ کی کمی کا۔اس کے فیصلہ کی نہایت آسان صورت ہے۔عورت قاضی کے سامنے جا کر کہتی ہے۔اَخَافُ مِنْ بَعْلِیْ نُشُوْزًا قاضی فوراً خاوند کوطلب کر کے پوچھتا ہے کیا تم میں مصالحت ہو سکتی ہے؟ اگر ممکن ہوا تو مصالحت کروا دی گئی۔ورنہ خاوند کو حکم ہوتا ہے۔طلاق دو۔اگر ذرا تامل کرے تو قاضی خود طلاق دے دیتا ہے۔البتہ یہ ایک طلاق ہوتی ہے اور رجوع کی گنجائش رہتی ہے۔جہاں ہندی مسلمان آباد ہیں وہاں زن و مرد کا کپت لگا رہتا ہے۔نکاح سے قبل لڑکی کو دیکھنا چاہیے فرمایا۔ہندوئوں میں رسم ہوا کرتی تھی کہ عورت مرد جو باہم بیاہ کرنا چاہیں ایک دوسرے کو دیکھ لیں۔اس کو سومبر کہتے تھے۔مسلمانوں میں بھی یہ حکم تھا مگر اب عملدرآمد نہیں رہا۔ایک صحابی نکاح کرنے لگا۔حضرت نبی کریم ؐ نے پوچھا۔کیا تم نے عورت کو دیکھ بھی لیا ہے؟ عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ؐ۔فرمایا۔جائو دیکھ آئو۔جب وہ دیکھنے گیا تو عورت کے بھائی باپ سخت ناراض ہوئے۔عورت کو جب معلوم ہوا تو اس نے اوّل تحقیق کی کہ آیا سچ مچ رسول اللہ ﷺ نے ایسا حکم دیا ہے یا یہ کہ شخص اپنی طرف سے بات بناتا ہے۔جب پتہ لگ گیا کہ ٹھیک رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے تو پردہ اُٹھا کر باہر آ گئی اور اس شخص کے سامنے آکھڑی ہوئی۔کہا میں وہ عورت ہوں جس کے ساتھ تو نکاح کرنا چاہتا ہے۔یہ شادی نہایت محبت کی ہوئی۔فرمایا۔یہ بڑی بے انصافی ہے کہ لڑکے کو دیکھ لیا جاتا ہے مگر لڑکی کو نہیں دکھایا جاتا۔