ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 183
ضرورت نکاح ثانی فرمایا۔بعض اوقات ضرورت پڑتی ہے نکاح ثانی کی مثلاً بی بی کو تپ دق کا مرض ہے یا سل کا یا مجنون یا مجذوم ہو جائے یا طبیعت رغبت نہ کرے اور متنفر ہو یا عورت بانجھ ہو تو ساری عمر ضائع ہو جاتی ہے۔بعض عورتیں ایک لڑکی پیدا کر کے بانجھ ہو جاتی ہیں۔اُس وقت مومن کیا کرے؟ البتہ جب ایک سے زیادہ بیبیاں ہوں تو انصاف کرنا چاہیے مگر ہوتا نہیں چاہے منشاء بھی ہو۔آج کل تو نئی بیوی ماں بن جاتی ہے جوتے مارتی ہے اور ہر طرح سے خاوند کو ذلیل کرتی ہے۔اوّل بیوی کو معلقہ چھوڑ دینا بڑا غضب ہے۔بیاہ سکھ کے لئے ہوتا ہے جب دکھ ہو جائے تو علیحدہ ہوجائو۔۸؎ مسیح کی تعلیم میں غلو فرمایا۔مباحثہ آتھم کے وقت جب میں امرتسر میں ٹھہرا ہوا تھا تو ایک دن حافظ عبدالرحمن سیاح مجھے کہنے لگا کہ میرے باپ سے آپ ملیں اور گفتگو کریں۔وہ پرانی طرز کے مولوی ہیں۔مولوی عمر الدین اُن کا نام تھا۔میں نے کہا کہ خاتِم کون نبی ہے جو سب سے پیچھے آنے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تو مسیح ہے۔میں نے کہا کہ مسیح کو حي اور قیوم اور عالم الغیب مانتے ہو۔کہنے لگے ہاں۔پھر پوچھا کہ محي اور ممیت اور لایموت بھی مسیح ہے اور باری بھی ہے۔قدوس اور سبوح بھی ہے۔کہنے لگے کہ ہاں ماننا ہی پڑے گا۔میں نے حافظ صاحب کو کہا کہ حافظ صاحب اب پھر ان کو بپتسمہ ہی دلائو۔اب اور کیا کسر باقی ہے۔ختم نبوت فرمایا۔ایک میں نے خاتم النبیین کا سوال بہت مولویوں سے کیا ہے مگر جوں جوں یہ ہاتھ پائوں مارتے ہیں تو ں توں نیچے ہی جاتے ہیں۔جس کی زندگی میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور زندگی میں ہی فوت ہو گئے تو پھر خاتم کون رہا۔دراصل ان کی مثال ایسی ہے جیسے چینے کے بھڑولے میں کوئی پھنس جاوے۔جوں جوں نکلنے کے واسطے ہلے گا نیچے ہی نیچے جاوے گا۔یہ لوگ بیچارے اسی طرح پھنستے جاتے ہیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ :۲۵۴)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں کے درمیان کچھ خصوصیات ہوتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔