ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 180
(الاعراف :۱۵۸)۔مفلح کے معنے ہیں مظفر و منصور با مراد کامیاب۔اب غور کرو جب سے مسلمانوں نے قرآن کی تعلیم سے منہ موڑا اور لگے کیمیا، سیمیا وغیرہ بنانے۔مجربات دیربی، شمس المعارف، حزب البحر، حزب البر، دعا سیفی، دعا کبیر وغیرہ سے کامیاب ہونے۔ان کا کیا بنا۔ذلیل ہوتے گئے اور ابھی ختم نہیں ہوئے۔تمام گدیاں تعلیم قرآن سے محروم ہیں اور ہم بِحَمْدِ اللّٰہِ وَ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ تمام مذاہب باطلہ کے سامنے قرآن پیش کر سکتے ہیں۔اگر لوگ اس طرف توجہ کرتے تو بادشاہ بھی بن جاتے۔اب اس میں جواب تو آ گئے۔لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ ھُوَ شَہِیْدٌ۔مولوی یا سائیں بار ہا مسیح کے دربار میں آئے اور بے اجاز ت چل دئیے۔بھلا کیا نفع اٹھاتے۔اب آئے فتوحات مکیہ خرید کر لے گئے اس میں سونے کی چڑیا ہو گی بلکہ مسیحؑ فرمایا کرتے اس کو پڑھنے والا نماز کو سست ہو جاتا ہے۔ہمارے پاس وہ فضل ہے جو صحابہ کو ملا۔میں خود غریب، غریب کا بچہ بادشاہ بن گیا اور جو کوئی اس راہ پر چلا مظفر ومنصور ہوا۔مجھ سے یہ بھی سوال ہے تیرے جیسا کون بنا۔اگر سائل یہاں ہوں تو میں ان کو دکھا دوں کتنے بنے۔اگر در خانہ کس است قرآنے بس است ……………… ہمارے مکرم دوست بابو فرزند علی صاحب چند روز کے واسطے یہاں تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی مجلس سے چند نکات لکھ کر دئیے ہیں جو شکریہ کے ساتھ درج کلام امیر کئے جاتے ہیں۔( ایڈیٹر )