ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 17
والوں کا نام ہندو ہے نہ قائلین تناسخ کا، نہ وید کے ماننے والوں کا، نہ مردے جلانے والوں کا، نہ گائے کا گوشت کھانے والوں کا۔ہندوؤں میں وہ بھی داخل ہیں جو مرگھٹ میں آگ جلا کر انسان کی کھوپڑی میں کھانا پکاکر کھاتے ہیں اور انسانی دانتوں کی تسبیح (مالا) رکھتے ہیں۔عیسائی مذہب عیسائی مذہب بھی کوئی مذہب نہیں۔ان میں شریعت جو مذہب کے دستورالعمل کا نام ہے لعنت قرار دی گئی ہے۔سارا دارومدار کفارہ پر ہے۔معلوم نہیں کفارہ نے ان کو کیا فائدہ دیا اور کس طرح سب کی نجات کا موجب ہوگیا۔اس میں گناہ کی مزدوری موت بتائی جاتی ہے اور یہ کہ عورت کو دردِ زہ ہوگا اور کہ آدمی اپنی پیشانی کے پسینے سے روٹی کھائے گا۔اب یہ باتیں جو گناہوں کی سزا میں ہیں یہ تو اب تک کفّارہ پر ایمان لانے والوں میں بھی ہیں۔پس کفّارہ نے ان کو کیا فائدہ دیا۔آریہ دھرم سناتن دھرم والے تو بت پرست ہیں ان کے بتوں کی تعداد تو پھر تھوڑی ہے مگر یہ تمام کائنات عالم کو خدا کہتے ہیں کیونکہ مادہ اور روح کو خدا کے برابر ازلی ابدی سمجھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ فضا اور اس زمانے کا بھی ازلی ابدی ہونا لازم آتا ہے۔اس سے بڑھ کر شرک اور اللہ تعالیٰ کی بے قدری کیا ہوگی کہ وہ چیزیں بنانے میں دو اور چیزوں کا محتاج ہے اور ان کا خالق نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خواص سے ناآشنا اور معبود بننے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔پھر یہ لوگ ابدی نجات کے قائل نہیں تو اس صورت میں ایک مسلمان اور آریہ میں کیا فرق رہ گیا۔اگر مسلمان ان کے نزدیک مکتی نہیں پانے کا تو ایک آریہ بھی تو ابدی مکتی سے محروم ہے۔سکھ ازم یہ لوگ بھی دوسروں کے مذہب پر چلنے والے ہیں۔اوّل تو سنگھ کہتے ہی سپاہی کو ہیں۔پھر ان کی اپنی کوئی شریعت نہیں۔کچھ مسلمانوں کے تابع ہیں کچھ ہندوؤں کے۔برہمو سماج یہ لوگ بھی عجیب مذہب رکھتے ہیں۔ان کا قول ہے کہ ہم یونیورسل بات اور کانشس کیہدایت پر چلتے ہیں مگر اس کانشس پر ہزار افسوس جو یہ تعلیم دے کہ تمام انبیاء جھوٹے اور دروغ مصلحت آمیز کے پابند تھے۔ساری دنیا کے مذاہب نے پیغمبروں کو مانا اور ان کو راستباز جانا مگر یہ