ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 171

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھو کہ بادشاہ بننے کے لئے نکلے تو سب کے سب ہی مرگئے۔صرف دوآدمی باقی رہ گئے۔یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی مر گئے اور آخری ان کی التجا بھی تھی کہ فلسطین کو تو دکھا دیا ہوتا۔لیکن آخر کامیاب ہوگئے۔پس یہ ضروری نہیں کہ نتیجہ سب لوگ دیکھ لیں۔ابھی تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں پیشگوئیاں موجود ہیں جو ہم نے دیکھنی ہیں تو پھر ہم ان سے کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔آپ کی صداقت کو ہم اور طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔۶؎ صداقت کے دیکھنے کے طریق مختلف ہیں۔مثلاً ڈاکٹر کی صداقت کی شہادت بیمار بن کر ہی نہیں لی جاتی بلکہ کسی دوسرے کے کہنے سے کہ فلاں ڈاکٹر ہے ڈاکٹر پہچانا جاتا ہے۔صادق کے لئے ہزاروں پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور اس کی اپنی پیشگوئیاں ہزاروں ہوتی ہیں۔اگر وہ ساری ایک زمانے میں پوری ہو جائیں تو پھر پچھلوں کے لئے اس کی صداقت کا کیا نشان باقی رہ جاوے۔وہ تو پھر قصہ کہانیاں ہو گئیں۔مرزا صاحب کے ساتھ ہمارا تعلق صداقت کی وجہ سے ہے۔ورنہ خدا کو ہم نے جان دینی ہے کوئی مرزا صاحب ہی نے ہم کو بہشت میں لے جانا تھا۔بغیر صداقت کے مان لینے کے میں تو سب سے پہلے انکار کرنے والا ہوتا۔ایک دوائی ہے کونین اس کی صداقت باوجود مخالفت کے کس طرح دنیا میں ثابت ہوئی۔یہی حالت مرزا صاحب کے متعلق ہے۔اگر اصول میں مرزا جی کے سچائی ہے تو پھر وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔باقی رسولوں کے متبعین میں غور کرو مرزا جی کے سب سے زیادہ متبع تھے۔مسیح کے ۱۲ حواری اور بعض نے ان میں سے لعنت دی۔دوسرے نے تیس۳۰ روپے لے کر بیچ دیا۔پھر خدا کا رسول تھا اس کی صداقت ظاہر ہو گئی دیکھ لو کس طرح کامیاب ہوا۔قرآن خود انتخاب ہے ۲۸؍ستمبر ۱۹۱۲ء فرمایا۔قرآن کریم کیسی کتاب ہے ایک دفعہ میرا جی چاہا کہ حاشیہ پر اس کی منتخب یادداشتیں لکھوں۔میرے دماغ کو شعر سے تو کچھ نسبت نہیں۔ایک روز جمعہ کے دن بڑے زور مار مار کر تین شعر لکھے تھے حالانکہ اس وقت میرے اندر ایک کیفیت بھی موجود تھی مگر جب قرآن کریم کے انتخاب کے لئے قلم اُٹھایا تو مجھ کو یہ شعر یاد آ گیا۔؎