ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 170
ہے تو وہ ضرور کامیاب ہوگی۔ہمارے ملک ہاتھ سے نکل گئے سلطنتیں نہ رہیں۔لیکن سچائی قرآن ہے اس کے ذریعے ہم اب بھی ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔ہم نے بہت لوگوں کے پیش کیا کہ سچائی ثابت کرو اور دکھاؤ کہ قرآن میں نہیں ہے۔مثلاً قرآن میں لکھا ہے کہ مسیح انسان ہے خدا نہیں ہے یہ ایک سچائی ہے لیکن عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا ہے جس کے لئے وہ دلیل نہیں دے سکتے کہتے ہیں کہ مان لو دلیل نہیں آتی۔ہمارے اصول یہ ہیں۔(۱) قرآن سچی کتاب ہے۔(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرما گئے صحیح ہے۔مشاہدہ اور عقل کے خلاف قرآن میں کچھ نہیں۔(۳) نماز، روزہ ،حج اور زکوٰۃ تعامل کے ذریعے ہم کو پہنچے ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے ہماری کتابیں کہتی ہیں۔(۴) عیسیٰ علیہ السلام مرگئے حیات کا عقیدہ اب دن بدن گھاٹے میں رہے گا(سر سید صاحب کا ایسا کہنا بھی مرزا صاحب کی سچائی کی دلیل ہے)کیونکہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس مسئلے کی سچائی کے لکھنے کے لئے کوئی رسول آنا ضروری ہے سید صاحب نے ایک رنگ میں کہا۔مرزا صاحب نے مذہب سے ثابت کیا۔(۵) دعا کا ماننا۔آجکل بہت اعتراض دعا پر ہوتا ہے ہم کہتے ہیں کہ دعا کا اثر ضرور ہوتا ہے۔(۶) مرزا صاحب نے اپنے آپ کو مسیح کہا یہ ایسی سچی بات ہے کہ اس سے آئندہ انکار کرنا مشکل ہوجائے گا۔دیکھنا صرف یہ ہی ہے کہ کوئی صداقت کسی قوم کے پاس ہے یا کہ نہیں۔اگر صداقت ہے تو اس کا پھر کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا مثلاً اب کوئی تعلیم یافتہ کہہ سکتا ہے کہ مسیح زندہ موجود ہے کبھی نہیں کہہ سکتا۔پس نتیجہ اس سلسلے کا مسلمہ امر ہے کہ صداقت کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہوتاہے اس کا بھی اچھا ہوگا۔