ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 169 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 169

دلیل بھی دے اور جو اعتراض کرے یا جواب دے تو اس کی دلیل اپنی مسلّمہ کتاب الہامی میں سے دے اپنی طرف سے کچھ نہ کہے۔پھر باوجود وعدہ کے آپ اس اصل کی طرف آئے ہی نہیں اس لئے کپتے ہو۔(۲) مرز اصاحب وسیع حوصلہ اس لئے ہیں کہ باوجود اس کے بھی پندرہ روز تک تم سے مباحثہ کرتے رہے میرے جیسا ہوتا تو پہلے دن ہی ختم کر لیتا۔(۳) آپ اپنے مذہب کی صداقت کی دلیل کسی مذہب کے سامنے نہیں دے سکتے اس لئے کسی مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔(۴) ہم اس لئے بادشاہ ہیںکہ ہمارے دعویٰ اور جواب کی دلیل ہماری کتاب میں موجود ہے۔اب یہ ایک بیج بویا گیا ہے اور ایسا اصل ہے کہ سوائے قرآن دانوں کے کوئی مذہب والا نہیں چل سکتا۔نہ آریہ ، نہ برہمو، نہ یہود، نہ عیسائی۔یہ ایسا حربہ ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی قوم نہیں کر سکتی۔یہ ایسا اصول ہے کہ جب عقلمند لو گ اس کی طرف چلیں گے تو کچھ اس کے خلاف نہیں کرسکیں گے بس اس اصل سے کام لے کر دیکھو۔ہر درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔میں چھوٹا ساتھا کہ غیر مقلدوں کا گروہ کا نکلا میں یقین کرتا تھا کہ یہ کامیاب ہوں گے۔آج ہر ایک لڑکا جو کالج سے نکلتا ہے تقلید کی ضرورت سے آزاد ہوتا ہے۔اسی طرح حضرت نے جو بیج بویا ہے وہ بڑا بھاری درخت ہونے والا ہے۔لیکن یہ کہ کوئی ہم میں سے اس کو دیکھ سکے یہ اور بات ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئیوں کی بہت سی صداقتیں ہم اب دیکھ رہے ہیں لیکن وہ خود اس وقت نہ دیکھ سکے۔اسی طرح جو سچائی ہے وہ ضرور ظاہر ہو کر رہے گی کب ہوگی۔یہ تدریجاً ہی ہوتی ہے۔اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خدا ماننا جھوٹ ہے اس لئے آخر یہ جھوٹ گر جائے گااور اب بہت حد تک گرچکا ہے۔اگرچہ کسی وجہ سے وہ اس کے لئے اب روپیہ خرچ کرتے ہیں لیکن آخر تھک جائیں گے۔پس ہر سلسلہ میں دیکھنا یہ ضروری ہے کہ آیا اس میں کوئی سچائی ہے یا کہ نہیں۔سچائی اگر