ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 168 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 168

پھر چاول کی پنیری لگائی جاتی ہے ا ور پھر اُکھیڑی جاتی ہے۔نادان بچہ سمجھتا ہے کہ تباہ ہو گئی لیکن آخر پھر اس سے ہی کتنا غلہ ہوتا ہے۔پس ظاہراً یہ سب دل خوش کن امور ہوتے ہیں لیکن جب کوئی قوم ہونہار ہوتی ہے تو اُس کی ترقی یک دم نہیں ہوتی اور بڑے بڑے آدمی اس میں پہلے ہی نہیں مل جاتے۔(الانعام :۱۲۴)۔انہوں نے تو مجرم بننا ہوتا ہے اس لئے بڑے بڑے آدمی ان میں کبھی نہیں آ سکتے۔میں جب قادیان میں آیا۔شروع میں یہاں مرزا صاحب مرحوم و مغفور ہی تھے۔ان کی بیوی خود کھانا پکاتی تھی اور ایک خادمہ تھی بس، لیکن جب تعلیم دیکھی تو میں نے کہا کہ ایسی ہے کہ عقل مندوں کو کھا جائے گی اور مجبوراً یہ صداقت دنیا کو پہنچ جائے گی لیکن امیر نہ مانیں گے چنانچہ میرے دیکھتے دیکھتے یہ سب آ گئے۔اب بھی عقل مند سن کر مقابلہ نہیں کر سکتا۔غرض اصل بات جو دیکھنے کے قابل ہوتی ہے وہ تعلیم ہے اگر سچی ہے تو ضرور کامیاب ہو جائے گی اور جو جو اس کے نشان ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے مگر سب تدریجاً ہی واقع ہوں گے۔یہ سوال کہ حضرت نے کیا کام کیا ہے۔کام تو بہت کئے ہیں اور ان کے سنانے کے لئے وقت نہیں صرف ایک سناتا ہوں۔ایک عیسائی نے مجھ سے کہا کہ پندرہ دن امرتسر میں عیسائیوں سے مباحثہ ہوا اس کا کیا نتیجہ نکلا۔میں نے کہا کہ چار نتائج ہوئے۔اوّل۔یہ کہ عیسائیوں جیسا کپتا دنیا میں کوئی نہیں۔دوم۔مرزا صاحب بڑے حوصلے والے ہیں۔سوئم۔آپ یعنی عیسائی ایک منٹ کے لئے بھی کسی مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔چہارم۔یہ کہ ہم بادشاہ ہیں۔یہ سب نتائج تو پہلے دن ہی میں نے نکال لئے باقی پندرہ دنوں میں تو بہت سے نتائج ظہور پذیر ہوئے۔اس نے کہا کہ کس طرح سے؟ میں نے جواب دیا کہ (۱) حضرت مرزا صاحب نے ایک عمدہ اصل قائم کیا تھا کہ عقل مندجو دعویٰ کرے اس کی