ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 160

ایسے واقعات اور مکالمات اور مباحثات سنایا کرتے ہیں جو حکایات اور امثلہ کے رنگ میں قرآن شریف کی بعض آیات کی لطیف تاویل و تعبیر ہوتے ہیں۔وہ کوئی قصے کہانیاں نہیں ہوتیں بلکہ کسی آیت قرآنی کے ماتحت ایک لطیف بات ہوتی ہے جو دلوں کی پاکیزگی میں امداد دیتی ہے۔ا ن لطائف کو نمبر وار احسن اللطائف کی سرخی کے نیچے درج مکالمہ امیر کیا جایا کرے گا۔انشاء اللہ اور آج پہلا لطیفہ درج کیا جاتا ہے۔لطیفہ نمبر ۱ فرمایا۔ریاست بھوپا ل میں ہمارے ایک مربی محسن جمال الدین صاحب تھے۔غَفَرَہُ اللّٰہُ وَرَحِمَہُ اللّٰہُ اُن کے ہم پر بڑے احسانات ہیں۔اُن کے پاس بیش قیمت اصلی موتیوں کا ایک ہار تھا جو جلسوں پر یا دیگر زینت کے موقعوں پر پہنا کرتے تھے۔بوڑھے سفید ریش آدمی تھے ہار کو سامنے ہاتھ میں لے کر ایک وجدانی حالت میں سر مٹکاتے ہوئے بڑے لطف سے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھتے ہوئے پہنتے۔(النحل:۱۵) اور اس (سمندر) میں سے زیور نکال کر پہنتے ہو۔نوٹ :موتی سمندر میں سے ہی نکلتے ہیں۔۴؎ ۵؍ ستمبر ۱۹۱۲ء ادب چاہیے ایک صاحب نے حضرت کو لکھا کہ فلاں شخص کو آپ نے وعظ کیا ہے مگر اب یہ وعظ بھی کرو اور وعظ بھی کرو۔فرمایا۔اس کو لکھو کہ تم اب ہم کو سبق دیتے ہو؟ (ادب سیکھنا چاہیے۔ایڈیٹر) مدد مسکین ایک مسکین طالب علم ضلع ہوشیار پور کا خط آیا کہ میں قادیان میں طب پڑھنا چاہتا ہوں مگر بہت مسکین ہوں۔حضرت نے فرمایا۔د۲و روپے ماہوار کی امداد ہم دیں گے۔نوکر سے پردہ ایک گائوں سے ایک زمیندار کا خط آیا کہ ہمارا ایک کا ماں (خدمتگار) ہے۔