ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 158
ذریعے سے اُن کے پاس آ جاوے اُس کی تمام پشتوں کی اولاد کو شک کا مال کہتے ہیں اور جو اُس کے ماسوا ہو اُس کو حلال۔یوں تو دونوں قسم کے مال مویشی کا ہی استفادہ حاصل کرتے رہتے ہیں مگر برتن جدا جدا ہوتے ہیں۔شک والا دودھ جدا اور حلال جدا جدا ہی دہتے ہیں جدا ہی بلوتے ہیں گو پیٹ میں دونوں ہی جمع ہو جاویں نیز فاتحہ کہلانے کے واسطے اورپیروں فقیروں کو پلانے کے واسطے بھی حتی الوسع حلال کا دودھ مہیا کیا جاتا ہے۔چونکہ اس نواح کے لوگوں کا آبائی پیشہ عموماً مال مویشی کی چوری تھا اس واسطے ان کی اصطلاح کے مطابق حلال کا دودھ مشکل سے ہی دستیاب ہوتا ہے۔گھر میں آ کرہنسے کہ یہ بھی حلال کی ایک قسم نکالی ہے۔۲؎ بچپن کی یاد داشت بچپن کی باتیں انسان کو کم یا د رہتی ہیں۔بالخصوص اس واسطے بھی کہ ان کے یاد رکھنے اور دہرانے اور ذکر کرنے کی ضرورت بڑی عمر میں نہیں پڑتی یا کم پڑتی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے ہیں کہ مجھے وہ وقت اور حالت یاد ہے۔جب کہ میں نے اپنی ماں کا دودھ چھوڑا اور میرے دودھ چھڑانے کے واسطے کوئی ایسی شئے لگائی گئی جو مجھے مکروہ معلوم ہو۔مکتوبات خلیفۃ المسیح ہم نے ارادہ کیا ہے کہ کلام امیر کی ذیل میں حضرت خلیفۃ المسیح کے بعض خطوط بھی درج کئے جائیں جن اصحاب کے پاس اس قسم کے خطوط ہوں جن کا شائع کرنا پبلک کے واسطے مفید ہو وہ اصل یا نقل مجھے بھیج دیں۔مجھے حضرت کا ایک پرانا خط میرے نام اتفاقاً اپنے پرانے کاغذات میں سے ملا ہے۔سب سے اوّل اسی کو درج کیا جاتا ہے۔یہ خط اس وقت کا ہے جبکہ میں جموں اسکول میںٹیچر تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے۔اس خط پر ڈاک خانہ قادیان کی مہر ۶؍دسمبر ۱۸۹۳ء کی ہے اور یہ کارڈ ہے۔