ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 157
اور جہاں محامد کا بیان ہو اُس کو محامد کی ذیل میں رکھیں۔اللہ تعالیٰ کا صادق الوعد ہونا اُس کے محامد سے ہے اُس کو قدرت کے نیچے نہیں لے آنا چاہیے۔ہمارے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ خلاف وعید بھی ہوتا اور خلاف وعدہ بھی ہو جاتا ہے۔اسی سے تو فرمایا ہے کہ اِیْمَان بَیْنَ الْخَوْفِ وَ الرَّجَائِ چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ خوف تو یہ کہ مبادا ہم کو دوزخ میں ڈال دے۔اور رجایہ کہ خواہ کچھ کریں ہم کو جنت میں ڈالے گا۔اس مسئلہ کو مولوی اسماعیل صاحب نے ایضاح الحق کے حاشیہ پر لکھا ہے مگر بڑی عمدگی سے لیا ہے۔میں محمد اسماعیل صاحب کو بہت بڑا آدمی سمجھتا ہوں۔خدا رازق ہے فرمایا۔ایک دفعہ میرے ہاں مہمان آ گئے۔میں نے بیوی سے پوچھا مگر جواب ملا کہ ہمارے ہاں تو کچھ نہیں۔یہ جموں کا واقعہ ہے۔روپے تو ہمیں بہت آتے تھے مگر بعض وقت ہمارے گھر میں کچھ بھی نہ ہوتا تھا۔کہیں سے میں نے پانچ روپے اُدھار لئے۔میں بازا ر کے راستہ سے گھر کو جانے لگا تو دیکھا کہ ایک دوکاندار اپنی دکان کو ماتھا ٹیکنے لگا ہوا تھا۔اُس نے خوش ہو کر پانچ روپے میرے آگے رکھ دئیے۔میں نے کہا کہ کیوں دیتے ہو۔اس نے کہا۔آپ بڑے آدمی ہیں آپ کے سویرے ہی درشن ہو گئے ہیں آج ہمیں بہت کچھ ملے گااس واسطے خالی ہاتھ درشن نہیں کرتا ہوں۔حلال حرام میرے والد صاحب کو گھوڑی، بھینس رکھنے کا بہت شوق تھا۔ایک آدمی کو کہا کہ ہماری بھینس چرایا کرو مگر خود دودھ نہ لیا کرو ہم تمہیں خوب مزدوری دیں گے۔ان کی عادت تھی کہ جس طرح ہمارے مدرسہ میں اتفاقیہ کبھی کبھی آجایا کرتے تھے اسی طرح بھینس کی بھی خبر گیری کے واسطے کبھی کبھی آنکلتے تھے۔ایک دفعہ اتفاقاً آئے۔دیکھا کہ وہ دودھ دوہ رہا ہے۔کہنے لگا کہ مجھے چور نہ سمجھیں میر الڑکا مر گیا تھا۔آج جمعرات ہے اور لوگوں کا دودھ شکی تھا آپ کا حلال مال ہے اس واسطے میں نے اس کو دوہ لیا کہ اس پر فاتحہ کہلوائوں۔ضلع شاہ پور کے جنگلیوں میں عام طور پر یہ ایک رسم ہے کہ دودھ کے بارہ میں شک اور حلال میں بہت فرق رکھتے ہیں جو گائے یا بھینس کبھی چوری کے