ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 156
ہے۔پھرخدا ازلی، بیٹا ازلی، رو ح القدس ازلی مگر ازلی تین نہ کہو ایک ازلی ہے۔بخاری میں لکھا ہے۔ربّانی وہ لوگ ہیں کہ جو آہستگی سے علوم میں ترقی دیتے ہیں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایسی تقریر نہ کرو جو اللہ اور رسول کی تکذیب کرے۔بات ہمیشہ سنبھال کر کرنی چاہیے۔میں نے بہت کہا ہے مگر یہ دنیا حکم کو کم مانتی ہے۔تلوار کی دھار پر چلنا اور حکم ماننا مشکل ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے بہت فہم دیا ہے۔اب میں آپ کو یہ کہتا ہوں کہ ایک قدرت اور طاقت ہوتی ہے اور ایک فعل اور اُس کا وقوع۔میں ایک مثال دیتا ہوں۔میں آپ اس وقت صحت سے اگر اپنی اس زبان کو کہوں کہ میٹھے کونمک سمجھ اور نمک کو میٹھا سمجھ تو یہ نہیں مانے گی۔ایسا ہی اگر اس زبان کو کہوں کہ کلمہ کفر کہہ ، قدرت اور ہے مگر جب تک مسلمان ہوں نہیں کر سکتا۔ایسا ہی جس طرح میں بیوی سے جماع کر سکتا ہوں بیٹی سے بھی کر سکتا ہوں مگر نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں قادر ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔۔(النساء : ۱۳۴) یعنی اگر اللہ چاہے تو تم سب کو دنیا سے لے جاوے اور اوروں کو لے آوے اور وہ اس بات پر قادر ہے۔قدرت اور وقوعہ میں تفرقہ کرنا مشکل ہے۔تو کیسا نادا ن ہے وہ عالم جو اس مضمون کو عوام میں لے بیٹھتا ہے۔دیکھو میں خدا کی قدرت کا بیان کرتا ہوں کہ اللہ بڑا قادر ہے اگر چاہے تو سارے جہان کو غرق کر دے اور نئی مخلوق پیدا کر دے۔ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ ہاتھ اور پائوں کا ذکر جو خدا کے بارہ میں ہے یہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ آج لیکچر میں یہ سب الفاظ میں خدا کی نسبت بول جائوں گا۔میں نے لیکچر میں خدا کی تعریف کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ اُسی کے ہاتھ میں یہ سب جہان ہے۔پھر میں نے ایک موقع پر کہہ دیا وہ چاہے تو نبیوں کے دشمنوں کو پائوں کے نیچے کچل دے۔پھر اخلاق فاضلہ کے ذرائع میں بیان کیا کہ اگر انسان یہ خیال کر لیوے کہ میں خدا کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا تو اُس کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔غرض کہ اس طریق سے وہ سمجھ گیا۔یہ بات بھی میں نے بچ کر کی ہے۔بعض لوگ موٹی سمجھ والے ہوتے ہیں وہ نہیں سمجھ سکتے۔ایک قدرت کا بیان ہوتا ہے اُس کو قدرت کے نیچے رکھیں