ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 152
کلام امیر علالت کے باوجود درس قرآن ۸؍ ستمبر ۱۹۱۲ء ( یوم الاحد) صبح حضرت کی طبیعت کچھ علیل ہے۔متلی ہوتی ہے پھر بھی قرآن شریف کا درس دیا۔فرمایا۔آج تو درس دینا مشکل معلوم ہوتا ہے مگر خیرشروع کرتے ہیں۔سورئہ صف میں مثیل مسیح کی بشارت ۱۰؍ستمبر ۱۹۱۲ء ( یوم الثلا ثہ ) صبح درس کے بعد بیماروں کو دیکھا۔پھر بارہ بجے بھی بیماروں کو دیکھا اور ڈاک سنی اور جواب لکھائے۔آج بعد از ظہر مسجد اقصیٰ میں سورہ ٔ صف کے پڑھنے سے قبل کسی نے کہا کہ اس سورۃ کو کھول کر بیان کرو حالانکہ حضرت صاحب تمام ضروری باتوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور عام تراجم سے جہاں اختلاف ہو وہ بھی خصوصیت سے بتلا دیتے ہیں مگر افسوس ہے کہ نادان لوگ بے فائدہ سوالات سے باز نہیں آتے۔اس سورۃ کی تفسیر میں آپ نے ثابت کیا کہ جس احمد کی بشارت اس سورہ شریف میں ہے وہ مثیل مسیح ہے۔حضرت موسیٰ نے اپنے مثیل کے متعلق پیشگوئی کی تھی اور حضرت مسیح نے اپنے مثیل کے متعلق پیشگوئی کی ہے۔فرمایا۔میں اپنی ذوقی باتیں کم کیا کرتا ہوں۔سائل تو صرف احمد ؐ کے متعلق کھول کر بیان چاہتا ہے۔یہاں تو خدا نے احمد کے بعد نور کی طرف بھی قرآن شریف میں اشارہ کر دیا ہے۔آگے دین کا لفظ بھی ہے اور اس نور کو نہ ماننے کے متعلق بھی کہا ہے۔(الصّف :۹) (اگرچہ منکرین برامنائیں ) زخم ناسور ۱۱ ؍ ستمبر ۱۹۱۲ء ( یوم الاربع ) صبح فرمایا کہ رات زخم ناسور کے اندر اس طرح محسوس ہوتارہا جیسا پیپ ہوتی ہے۔ڈاکٹر الٰہی بخش صاحب نے بامداد ڈاکٹر عبداللہ صاحب ڈریس کیا۔اس کے بعد درس ہوا۔۱؎