ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 150

اب غو ر کر کے دیکھو کہ آیا یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے یا وہ۔پھر کسی کی عبادت کے لئے دل میں اعتقاد ہوتا ہے معبود کے سامنے انسان اپنے آپ کو ذلیل خیال کرتا ہے۔تعظیمات کے الفاظ بولتا ہے۔اس سے دعائیں مانگتا اور التجائیں کرتا ہے۔اُس کے حسن و احسان کا اقرار کرتا ہے اس سے امن وامان کی درخواست اور مصائب کے دور ہونے کی نہایت تذلل کے ساتھ دعائیں کرتا ہے۔نماز اللہ کے نام سے شروع ہوتی اور اللہ ہی کے نام پر ختم ہوتی ہے۔۔ہر ایک آدمی کی کسی نہ کسی طرف توجہ لگی رہتی ہے۔۔شہید کے اعمال ترقی کرتے رہتے ہیں۔صبر کے معنے روزہ ، برائیوں سے پرہیز ا ور نیکیوں پر استقامت۔۔ان کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔۔تھوڑا سا۔رکوع ۱۹ حضرت نبی کریم مکہ میں تھے تو آپ کی قوم ہی آپ کی دشمن تھی لیکن ہجرت کے بعد یہود دشمن ہوئے ان کے سبب کسریٰ سے دشمنی ہوئی۔پھر عیسائی دشمن ہوئے تو ان کی وجہ سے قیصرسے دشمنی۔اس لئے وہاں صبر کا زیادہ موقع تھا۔صبر کی مختصر حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک نیکی پر قائم رہنا اور ہر ایک بدی سے بچنا۔۱۰؎ حوالہ جات قرآن رمضان ۱؎ بدر حصہ دوم مورخہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۱۲ء۔کلام امیر صفحہ ۷،۸۔قرآن رمضان صفحہ ۱،۲ ۲؎ بدر حصہ دوم مورخہ ۲۶ ؍ ستمبر ۱۹۱۲ء۔کلام امیر صفحہ ۱۳تا ۱۶۔قرآن رمضان صفحہ۳تا۶ ۳؎ بدر حصہ دوم مورخہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء۔کلام امیر صفحہ۲۱ تا ۲۴۔قرآن رمضان صفحہ۷تا۱۰ ۴؎ بدر حصہ دوم مورخہ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء۔کلام امیر صفحہ ۲۹ تا ۳۲۔قرآن رمضان صفحہ۱۱تا۱۴