ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 135
کمربستہ ہو جانا۔مگر افسوس کہ اب مسلمانوں پر وہی زمانہ آ گیا جس کے لئے اُن کو پہلے ہی تنبیہ کی گئی تھی۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بعض اُلو کے چرخے گائو کشی کے خلاف گئو رکھشا کے ہیڈنگ دے دے کر گائے کی پرستش کے ممد و معاون ہیں اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں نہایت صفائی کے ساتھ ارشاد الٰہی لوگوں کے دلوں سے گائے کی عظمت اُٹھا دینے کے لئے۔اس کے ذبح اورقربان کرنے کے لئے لکھا پا کر بھی قرآن کی مخالفت کرتے اور اُس کے حرفوں کو تبدیل کر کے (البقرۃ : ۷۶) کے مصداق بنتے ہیں۔اُن کی یہ حالت اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ یا تو وہ برائے نام ہی مسلمان ہیں۔قرآن کو جانتے ہیں خوب سمجھتے ہیں مگر اپنی خباثت اور منافقت طبع کی وجہ سے وہ ہندوئوں سے سگڑ بھلائی لینے کے لئے خدائی احکام کی مخالفت اسلام کی آڑ میں کر رہے ہیں۔یا وہ بالکل قرآن سے واقف ہی نہیں بلکہ لا یعقل بیوقوف ہیں۔اس لئے بیہودہ بکواس کر رہے ہیں اور مطلب اس سے صرف اسی قدر ہے کہ کوئی ہمیں بھی قاضی و مفتی سمجھے۔یا یہ بات ہے کہ اگر چہ وہ بظاہر کسی مسلمان کے گھر پیدا ہو گئے مگر حقیقتاً ان میں کسی دال خور گئو کی رکھشا کرنے والے اور اس کے پرستار کا خمیر شامل ہے جو اُن کو ان کے آبائی فطرت کے مطابق مجبور کر کے یہ کارروائی کرا رہا ہے۔ورنہ اگر یہ بات بھی نہیں تو اُن کو مفتی و قاضی مقرر کس نے کیا ہے؟ کہ تم اس امر میں ضرور ہی فتویٰ دو۔آیت۵۔اُ مِّی۔صرف تلاوت قرآن کرتا ہے اور معنے نہیں جانتا۔۔امیدیں۔۔ماں والے، ماں کے لاڈلے، ان پڑھ۔۔کلمہ افسوس ہے اور جہنّم کی ایک وادی کا نام ہے۔ سے مطلب عیسائیوں کے ترجموں سے ہے کہ وہ ترجمے در ترجمے کرتے