ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 134
سے مدد طلب کرتا ہوں کہ میں جاہلوں سے نہ ہو جائوں۔یہاں پر ایک نکتہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہنسی ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کا م ہوتا ہے تب ہی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں تو اس بات سے خدا کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں وہ کام کروں جو جاہل کیا کرتے ہیں۔۔جس چیز سے ہنسی کی جاتی ہے اور جس کی تحقیر ہو۔۔کَبِیْرَۃٌ۔۔جس نے ایک بار بچہ دیا ہو۔۔جس نے دو بارہ بچہ دیا ہو۔۔درشنی گائے۔خوش کرے دیکھنے والوں کو۔رکوع۹ آیت۱۔۔تم گائے کی خفیہ طور سے عبادت کرتے تھے خدا نے اس کو ظاہر کر دیا۔آیت۲۔پس کہا ہم نے کہ قتل کرو گائے کوکیونکہ اُ س کو تم نے معبود بنا یا تھا۔تم گائے کی پوجا کر کے مُردہ ہو گئے تھے۔اس لئے خدا نے چاہا کہ تمہارے دلوں سے شرک کی تاریکی اور زنگ دور کرکے نور ایمان اور روحانیت سے بھر دے اور تم کو زندہ کر دے۔دیکھو اس طرح سے اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کر کے اپنے نشان دکھلاتا ہے تاکہ تم اُلو نہ بنو بلکہ عقل کرو۔آیت۳۔مگر پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اور سخت بھی ایسے کہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے کیونکہ پتھروں سے تو پانی بھی جاری ہو جاتا ہے مگر تمہار ے دل خوف الٰہی سے پسیجے تک بھی نہیں۔آیت۴۔پس اے مومنو! کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ ایمان لائیں گے کیونکہ وہ تو ایک ایسا خبیث فریق تھا کہ باوجود اُس نے کلام الٰہی کو سننے اور سمجھنے کے تبدیل کر دیا۔اس رکوع کی تین آیتوں میں خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہود کا قصہ سنا کر ڈرایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی ( گئو ماتا جی کے) پرستاروں یا اُن کے معاونین میں شامل ہو جائو۔اگر تم نے ان جیسی چال اختیار کی تو یاد رکھو کہ جس جس قسم کی ذلتیں ان پہلے خبیثوں کو اُٹھانی پڑی ہیں تم بھی اُن کے برداشت کرنے کے لئے